سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 58
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام السلام ۵۸ حصّہ اوّل لائق نہیں ہوسکتا۔لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۳ صفحه ۱۹۶ تا ۲۰۰ حاشیه ) عمدہ غذا کے اہتمام کے متعلق منشی عبدالحق لاہوری کا مشورہ منشی عبد الحق صاحب اکو نٹنٹ لاہوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ میں ان احباب میں سے تھے جو مخلص سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ اس زمانہ میں حضرت اقدس کو لاہور میں اگر کوئی کام ہوتا تھا تو منشی عبد الحق صاحب کو لکھا جاتا تھا۔منشی عبدالحق صاحب۔منشی الہی بخش صاحب اور حافظ محمد یوسف صاحب یہ ایک ہی پارٹی کے لوگ تھے اور اپنے وقت میں حضرت مسیح موعود سے محبت واخلاص کا اظہار کرتے تھے۔مگر فی الحقیقت اُن کے ان اعمال میں ریا یا کسی اور مرض کی ملونی ضرور تھی جس نے آخر کار ان کو الگ کر دیا۔اس وقت چونکہ ان کا تذکرہ مقصود نہیں اس لئے محض تعارف کے لئے اس قدر لکھا گیا اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اپنے مقام پر ان کے متعلق کسی قدر تفصیل سے لکھا جائے گا۔انہی منشی عبد الحق صاحب کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امرتسر کے مقام پر آٹھم کے مباحثہ کے ایام میں کھانے کے متعلق ایک مشورہ دیا میں خود اس مجلس میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے موجود تھا۔اور میری آنکھوں کا دیکھا ہوا اور کانوں کا سنا ہوا واقعہ اور مکالمہ ہے۔میرے محترم مخدوم الملت حضرت مولانا عبد الکریم رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کولکھا ہے پس میں ان کے ہی الفاظ میں اس کو درج کر دیتا ہوں۔جن دنوں امرتسر میں ڈپٹی آتھم سے مباحثہ تھا (مئی ۱۸۹۳ء) ایک رات خان محمد شاہ مرحوم کے مکان پر بڑا مجمع تھا اطراف سے بہت سے دوست مباحثہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔حضرت اُس دن جس کی شام کا واقعہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں معمولاً سر درد سے بیمار ہو گئے تھے شام کو جب مشتاقان زیارت ہمہ تن چشم انتظار ہورہے تھے حضرت مجمع میں