سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 59 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 59

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹ تشریف لائے۔منشی عبدالحق صاحب لاہوری پنشنر نے کمال محبت اور رسم دوستی کی بنا پر بیماری کی تکلیف کی نسبت پوچھنا شروع کیا اور کہا کہ ” آپ کا کام بہت نازک اور آپ کے سر پر بھاری فرائض کا بوجھ ہے آپ کو چاہیے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال رکھا کریں اور ایک خاص مقوی غذا لازماً آپ کے لئے ہر روز تیار ہونی چاہیے۔“ حضرت نے فرمایا’ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے کبھی کبھی کہا بھی ہے مگر کا بھی ہے مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں ایسی مصروف ہوتی ہیں کہ اور باتوں کی چنداں پروا نہیں کرتیں۔اس پر ہمارے پرانے موحد خوش اخلاق نرم طبع مولوی عبد اللہ غزنوی کے مرید نشی عبدالحق صاحب فرماتے ہیں۔”اجی حضرت آپ ڈانٹ ڈپٹ کر نہیں کہتے اور رعب پیدا نہیں کرتے۔میرا یہ حال ہے کہ میں کھانے کے لئے خاص اہتمام کیا کرتا ہوں اور ممکن ہے کہ میر احکم کبھی ٹل جائے اور میرے کھانے کے اہتمام خاص میں کوئی سر مو فرق آجائے ورنہ ہم دوسری طرح خبر لیں۔میں ایک طرف بیٹھا تھا منشی صاحب کی اس بات پر اس وقت خوش ہوا اس لئے کہ یہ بات بظاہر میرے محبوب آقا کے حق میں تھی اور میں خود فرط محبت سے اسی سوچ بچار میں رہتا تھا کہ معمولی غذا سے زیادہ عمدہ غذا آپ کے لئے ہونی چاہیے۔اور ایک دماغی محنت کرنے والے انسان کے حق میں لنگر کا معمولی کھا نا دلِ مَا يَتَحَلَّل نہیں ہوسکتا۔اس بنا پر میں نے منشی صاحب کو اپنا بڑا مؤید پایا اور بے سوچے سمجھے ( در حقیقت ان دنوں الہیات میں میری معرفت ہنوز بہت سا درس چاہتی تھی ) بوڑھے صوفی اور عبداللہ غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت کے تربیت یافتہ تجربہ کار کی تائید میں بول اٹھا کہ ہاں حضرت ! منشی صاحب درست فرماتے ہیں۔حضور کو بھی چاہیے کہ درشتی سے یہ امر منوائیں۔حضرت نے میری طرف دیکھا اور قسم سے فرمایا: ”ہمارے دوستوں کو تو ایسے اخلاق سے پر ہیز کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے میں زکی الجس آدمی اور ان دنوں تک عزت و بے عزتی کی دنیا داروں کی حصّہ اوّل