سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 52 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 52

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۵۲ حصّہ اوّل فرماتے تھے۔اکثر دودھ والی میٹھی پیتے تھے۔زمانہ موجودہ کی ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ ، جنجر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے۔بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرتسر ، لاہور سے خود منگوالیا کرتے تھے۔اور گردہ کے درد کی تکلیف کی وجہ سے سوڈا واٹر اور بھٹ تیتر کا گوشت بار ہا استعمال فرمایا۔مٹھائی بازاری مٹھائیوں سے بھی آپ کو کسی قسم کا پر ہیز نہ تھا اس بات کی پر چول نہ تھی کہ ہندو کی ساختہ ہے یا مسلمانوں کی۔لوگوں کی نذرانہ کے طور پر آوردہ مٹھائیوں میں سے بھی کھا لیتے تھے اور خود بھی روپیہ دو روپیہ کی مٹھائی منگوا کر رکھا کرتے تھے۔یہ مٹھائی بچوں کے لئے ہوتی تھی کیونکہ وہ اکثر حضور ہی کے پاس چیزیں یا پیسہ مانگنے دوڑے آتے تھے۔میٹھے بھرے ہوئے سموسے یا بیدانہ عام طور پر یہ دو ہی چیزیں آپ ان بچوں کے لئے منگوار کھتے تھے کیونکہ یہی قادیان میں ان دنوں میں اچھی بنتی تھیں۔ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ کو اپنے کھانے کی نسبت اپنے مہمانوں کے کھانے کا زیادہ فکر رہتا تھا اور آپ دریافت فرما لیا کرتے تھے کہ فلاں مہمان کو کیا کیا پسند ہے اور کس کس چیز کی اُس کو عادت ہے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کا جب تک نکاح نہیں ہوا تب تک آپ کو ان کی خاطر داری کا اس قدر اہتمام تھا کہ روزانہ کئی برس خود اپنی نگرانی میں ان کے لئے دودھ ، چائے ، بسکٹ، مٹھائی، انڈے وغیرہ برابر صبح کے وقت بھیجا کرتے تھے اور پھر لے جانے والے سے دریافت بھی کر لیتے تھے کہ انہوں نے اچھی طرح سے کھا بھی لیا۔تب ان کو تسلی ہوتی۔اسی طرح خواجہ صاحب کا بڑا خیال رکھتے اور بار بار دریافت فرمایا کرتے کہ کوئی مہمان بھوکا تو نہیں رہ گیا یا کسی کی طرف سے ملا زمان لنگر خانہ نے تغافل تو نہیں کیا۔بعض موقع پر ایسا ہوا کہ کسی مہمان کے لئے سالن نہیں بچایا وقت پر ان کے لئے کھانا رکھنا بھول گیا تو اپنا سالن یا سب کھانا اسکے لئے اُٹھوا کر بھجوا دیا بارہا ایسا بھی ہوا کہ آپ کے پاس تحفہ میں کوئی چیز کھانے کی آئی یا خود کوئی چیز آپ نے ایک وقت