سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 53 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 53

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۵۳ حصّہ اوّل منگوائی پھر اس کا خیال نہ رہا اور وہ صندوق میں پڑی پڑی سڑ گئی یا خراب ہوگئی اور اسے سب کا سب پھینکنا پڑا۔یہ دنیا دار کا کام نہیں۔ان سب اشیاء کا نام پڑھ کر ایک شخص دھوکا کھا سکتا ہے کہ حضرت صاحب ہر قسم کے عمدہ عمدہ کھانے مٹھائیاں میوے وغیرہ وغیرہ سب چیزیں خوب کھاتے تھے سو یا د رکھنا چاہیے کہ میرا بیان ہیں پچیس برس کے مشاہدہ پر حاوی ہے یہ اشیاء آپ نے اپنے دستر خوان پر استعمال فرمائی ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ اور ہر وقت آپ کا خوان یغما بنا رہتا تھا۔اور پھر یہ کہ ان اشیاء میں سے اکثر چیزیں تحفہ کے طور پر خدا کے وعدوں کے ماتحت آتی تھیں اور بار ہا ایسا ہوا کہ حضرت صاحب نے ایک چیز کی خواہش فرمائی اور وہ اسی وقت کسی نو وارد یا مرید با اخلاص نے لا کر حاضر کر دی۔آپ کو عادت کسی چیز کی نہ تھی۔پان البتہ کبھی کبھی دل کی تقویت یا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کے لئے یا کبھی گھر میں سے پیش کر دیا گیا تو کھالیا کرتے تھے۔یا کبھی کھانسی نزلہ یا گلے کی خراش ہوئی تو بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔حقہ تمبا کو آپ ناپسند فرمایا کرتے تھے بلکہ ایک موقعہ پر کچھ حقہ نوشوں کو مہمان خانہ سے نکال بھی دیا تھا۔ہاں جن ضعیف العمر لوگوں کو مدت العمر سے عادت لگی ہوئی تھی ان کو آپ نے بسبب مجبوری کے اجازت دے دی تھی۔کئی احمدیوں نے تو اس طرح پر حقہ چھوڑا کہ ان کو قادیان میں وارد ہونے کیلئے حقہ کی تلاش میں تکیوں میں یا میرزا نظام الدین صاحب وغیرہ کی ٹولی میں جانا پڑتا تھا۔اور حضرت صاحب کی مجلس سے اٹھ کر وہاں جانا چونکہ بہشت سے نکل کر دوزخ میں جانے کا حکم رکھتا تھا اس لئے با غیرت لوگوں نے حقہ کو الوداع کہی۔ہاتھ دھونا وغیرہ کھانے سے پہلے عموماً اور بعد میں ضرور ہاتھ دھویا کرتے تھے۔اور سردیوں میں اکثر گرم پانی استعمال فرماتے صابن بہت ہی کم برتتے تھے۔کپڑے یا تولیہ سے ہاتھ پونچھا کرتے تھے۔بعض ملانوں کی طرح داڑھی سے چکنے ہاتھ پونچھنے کی عادت ہر گز نہ تھی کلی بھی کھانا کے بعد فرماتے تھے