سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 595 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 595

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹۵ پر ہزار افسوس دنیا کی طرف ہیں جُھک گئے وہ جو کہتے تھے کہ ہے یہ خانہ ناپائیدار جسکو دیکھو آجکل وہ شوخیوں میں طاق ہے آہ رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقویٰ شعار منبروں ہر پر اُنکے سارا گالیوں کا وعظ ہے مجلسوں میں انکی ہر دم سبّ و غیبت کاروبار جس طرف دیکھو یہی دنیا ہی مقصد ہو گئی طرف اُس کے لئے رغبت دلائیں بار بار ایک کانٹا بھی اگر دیں کیلئے اُن کو لگے چیخ کر اس سے وہ بھا! بھاگیں شیر سے جیسے حمار ہر زماں شکوہ زباں پر ہے اگر ناکام ہیں دیں کی کچھ پروا نہیں دنیا کے غم میں سوگوار لوگ کچھ باتیں کریں میری تو باتیں اور ہیں میں فدائے یار ہوں گو تیغ کھینچے صد ہزار ( نوٹ ) اس نظم کا ایک ایک شعر حضرت کے اس عالی مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کو حاصل ہے اور محبت و عشق الہی کی کیفیات اور تجلیات آپ کی عملی زندگی میں نمایاں نظر آتی ہیں وہ مصائب اور تکالیف جو آپ نے اندھی دنیا کے فرزندوں سے برداشت کیں وہ ایک داستان دردناک ہے جو خون سے لکھی گئی ہے مگر اُس جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلْلِ الْاَنْبِيَاءِ کی شان کو دیکھو کہ باوجود مصائب اور مشکلات کے طوفانوں کے وہ ایک چٹان کی طرح مضبوط کھڑے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اطاعت اور وفاداری کی شان جلوہ گر ہوئی آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ان اشعار حصہ پنجم