سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 596
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹۶ سے روشنی پڑتی ہے میں ایک ایک شعر کی تشریح میں آپ کی زندگی کے واقعات کو دکھاتا اگر مجھے اس کتاب کے ضخیم ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا اور میں طوالت کی پرواہ بھی نہ کرتا اگر کاغذ کی نایابی اور گرانی ہمت کو نہ توڑ دیتی تاہم دانشمندوں اور فکر کرنے والوں کے لئے یہ ایک اشارہ کافی ہے۔(۳۲/۱۵) زندگی کے حقیقی مقصد کے لئے التجا اے میرے پیارے بتا تو کس طرح خوشنود ہو نیک دن ہو گا وہی جب تجھ پر ہوویں ہم شار جسطرح تو دُور ہے لوگوں سے میں بھی دُور ہوں ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دل کا رازدار نیک ظن کرنا طریق صالحان قوم ہے لیک سو پر دے میں ہوں اُن سے نہیں ہوں آشکار بے خبر دونوں ہیں جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد میرے باطن کی نہیں ان کو خبر اک ذرہ وار ابن مریم ہوں مگر اُترا نہیں میں چرخ نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کارزار ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نے دیار مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار حصہ پنجم