سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 578 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 578

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۸ حصہ پنجم دین احمد کی بے کسی اور تائید ونصرت ربانی کی تڑپ سے بے قرار ہو کر بار ہا اس قسم کی آہ و زاریاں اور دعائیں آپ نے رب کریم کے حضور کی ہیں اور اس حد تک گریہ وزاری کی کہ بعض اوقات آپ کا بستر تر ہو گیا چنانچہ فرمایا ہے رسد (۱) اے حسرت ایں گروہ عزیزاں مرا ندید وقتے به بیندم که ازین خاک بگذرم (۲) گرخون شد است دل زغم و دردشان چه شد هست آرزو که سر برود هم در میں سرم (۳) ہر شب ہزار غم به من آید دردِ قوم یارب نجات بخش از یں روز پُر شرم (۴) یا رب بآب چشم من این کسل شان بشو کامروز ترشد است ازین درد بسترم (۵) دریاب چونکہ آب ز بیر تو ریختیم دریاب چونکه جز تو نماند است دیگرم (۶) تاریکی عموم بآخر نمی ایں شب مگر تمام شود روز محشرم (۷) دل خون شد است از غم این قوم ناشناس و از عالمان سج که گرفتند چنبرم الحاصل آپ کے کلام کو پڑھا جائے تو ہر جگہ اسی دردو غم کا تذکرہ اور ان ہی افکار کا اظہار ہے۔یہ دردو غم آپ کی اس محبت و شفقت میں پیدا ہوا جو بنی نوع انسان کی حقیقی بھلائی اور نجات کے لئے آپ کے دل میں تھا۔ایک مفتری علی اللہ انسان ایک منصو بہ باز کبھی اس درد کو اپنے قلب میں پیدا نہیں کرسکتا۔انبیاء علیہم السلام کی سیرت میں یہ ہی درد پا یا جاتا ہے اور یہ دردان کی فطرت میں ترجمہ اشعار۔افسوس عزیزوں نے مجھے نہیں پہچانا یہ مجھے اس وقت جانیں گے جب میں اس دنیا سے گزر جاؤں گا (۲) اگر ان کے دردو غم کی وجہ سے میرا دل خون ہو گیا ہے تو کیا ہوا میری تو خواہش یہ ہے کہ اسی دُھن میں میرا سر بھی قربان ہو جائے (۳) ہر رات قوم کے درد سے مجھ پر ہزاروں غم وارد ہوتے ہیں اے رب مجھے اس شور وشر کے زمانہ سے نجات دے (۴) اے رب میرے آنکھ کے پانی سے ان کی یہ شستی دھوڈال کہ اس غم کے مارے آج میرا بستر تک تر ہو گیا (۵) میری داد کو پہنچ کیونکہ میں نے تیرے لئے آنسو بہائے ہیں میری فریادسن کیونکہ تیرے سوا میرا کوئی نہیں رہا (1) غنموں کی تاریکی ختم ہونے میں نہیں آتی۔یہ اندھیری رات تو شاید حشر تک لمبی چلی جائے گی (۷) اس ناقد ردان قوم کے غم سے میرا دل خون ہو گیا۔نیز گمراہ عالموں کی وجہ سے جو میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔