سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 579 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 579

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۹ خمیر کیا جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے اس حصہ میں جو شفقت علی خلق اللہ کا پہلو لئے ہوئے ہے یہ رنگ از بس نمایاں ہے۔ایک مرتبہ ایک یادداشت میں لکھا۔الْمَسَاجِدُ مَكَانِي وَ خَلْقُ اللَّهِ عَيَالِي یعنی میرا مکان مساجد ہیں اور اللہ کی مخلوق میرا کنبہ ہے اس سے شفقت عامہ کا کسی قدرا ندازہ ہوتا ہے الغرض اس منظوم دعا کے پڑھنے سے قارئین کرام پر بخوبی کھل جائے گا کہ جس قلب سے یہ دردناک صدا بلند ہورہی ہے وہ غم دین میں انہماک کے اعلیٰ مقام پر ہے اور دنیا میں تقوی وطہارت پیدا کرنے کے لئے بے قرار ہے کسی ایک جگہ میں اپنی ذات کے لئے اپنے نفس کے آرام و آسائش کے لئے دعا نہیں کی بلکہ اضطراب و اضطرار میں ہر آن بڑھتے چلے جاتے ہیں جس قدر دین کے مصائب اور اسلام پر اغیار کے حملے اور اپنوں کی بے رغبتی اور سہل انگاری کو دیکھتے ہیں یہ درد بڑھتا چلا جاتا ہے۔ایک شخص نے اپنا چشم دید واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک رات وہ آپ کے قریب سویا ہوا تھا اور رات کے کسی حصے میں اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ آپ نہایت بے قراری سے تڑپتے ہوئے ادھر سے اُدھر لوٹ رہے ہیں۔وہ اس وقت سوء ادب کے خیال سے کچھ بول نہ سکا مگر دوسرے وقت جب اس نے واقعہ شب کو بیان کر کے پوچھا تو آپ نے اپنے دردو غم کی وجہ مصائب اسلام و ملت ہی کو بتایا۔(۲۲/۵) اسی قسم کی کچھ اور دعائیں بغیر کسی قسم کے حاشیہ اور نوٹ کے میں چند دعائیں اور اسی قبیل کی درج کرتا ہوں۔سخت شور اوفتاد اندر زمین رحم کن بر خلق اے جاں آفریں کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے اے رب الوریٰ