سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 547
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴۷ میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل وکرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔الحکم مورخه ۲۰ فروری ۱۸۹۸ء، جلد ۲ نمبر صفحہ ۹ کالم نمبر ۳) نوٹ۔اس دعا پر غور کرو کہ کیا اس میں دنیا طلبی اور جاہ طلبی کا کوئی شائبہ بھی پایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ سے جو چیز طلب کی ہے وہ مغفرت از گناہ ہے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت خاص اور رضا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے استغفار کرتے تھے اور حق ناشناسوں نے اس پر اعتراض کئے بحالیکہ یہ استغفار ہی آپ کی طہارت نفس اور قوت قدسی کا ایک ثبوت تھا ایسے معترض استغفار کی حقیقت سے نابلد و نا آشنا ہوتے ہیں استغفار انسان کے اندر گناہ سوز فطرت پیدا کر دیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقا اور مطاع صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور کامل خشوع اور خضوع کے ساتھ نفس کو دل کی تمام آلائشوں سے پاک رہنے کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنی دعا میں اس کی محبت خاص اور رضا کے طالب ہیں۔اگر قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور یقین وہ خدا تعالیٰ کا ابدی اور غیر فانی کلام ہے اور اگر اُس میں خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمُ اور یقیناً اس نے وعدہ فرمایا ہے اور وہ اپنے وعدوں میں اَصْدَقُ الصَّادِقِین ہے۔اگر حضرت مرزا صاحب کے متعلق ہر قسم کے دلائل اور آیات سے قطع نظر بھی کر لی جاوے تو ہر شخص اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر اور خدا کے حضور یوم الحساب کو کھڑا ہونے کا یقین کر کے بتاوے کہ کیا ایسا انسان جو اپنی تنہائی کی گھڑیوں میں اپنی خلوت کے اوقات میں جب کہ کوئی اس کو دیکھنے والا اور سننے والا نہیں وہ اپنی اندرونی خواہشوں کا یہ اظہار کرتا ہے کا ذب ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔