سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 548
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴۸ ہر ایک سلیم الفطرت کو یہ اقرار کرنا پڑے گا یہ شخص اپنی پاکیزگی ، طہارت نفس اور تعلق باللہ میں ایک اعلیٰ مقام پر ہے۔کچھ تو سوچو کہ وہ شخص جو خدا پر افترا کرتا ہو اور ہر روز کرتا ہو وہ اس قسم کی دعا کر سکتا ہے؟ کبھی نہیں مفتری علی اللہ کب کہہ سکتا ہے کہ تو مجھ سے ایسے عمل کرا جس سے تو راضی ہو جائے۔اس دعا کے ایک ایک فقرہ پر غور کرو اور اس دعا کو اپنے دستورالعمل میں داخل کرو کہ یہ انسان کو ایک طرف تزکیہ نفس کی طرف لے جائے گی اس کے نفس میں گناہ سے نفرت پیدا ہوگی اور اس کے ثمرات میں خدا تعالیٰ کی محبت اور رضا کا مقام نصیب ہوگا۔ہلاکت کی ہر راہ سے وہ بچایا جائے گا۔اور غضب الہی سے محفوظ ہو جائے گا۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - راز حیات و موت اس دعا میں آپ نے راز حیات و موت کو بھی نمایاں فرمایا ہے اور یہ موت وحیات کا وہ فلسفہ ہے جس کو انبیاء علیہم السلام ہی سمجھتے اور سمجھاتے ہیں دنیا کے فلاسفر اور حکیم اس نعمت سے بے بہرہ ہیں آپ فرماتے ہیں۔” میرے گنہ بخش تا کہ میں ہلاک نہ ہو جاؤں میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا کہ مجھے زندگی حاصل ہو۔“ خدا تعالیٰ کی خاص محبت کو آب حیات حقیقی یقین کرتے ہیں اور گنہ آلود زندگی کوموت ، یہ ایک فطرتی امر ہے کہ ہر انسان حیات و زندگی کا طالب ہے اور موت سے باوجود یکہ وہ یقیناً جانتا ہے کہ ایک دن آنے والی ہے مگر اس سے بچنا چاہتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں زندگی اور موت کا فلسفہ بالکل جدا گانہ ہے گناہ آلود زندگی کو اگر چہ اس کا بسر کرنے والا حکیموں اور فلسفیوں کے نزدیک زندہ کہا جاوے موت کا مترادف جانتے ہیں اور پاک اور خدا تعالیٰ کی محبت میں بسر ہونے والی زندگی کو حقیقی زندگی قرار دیتے ہیں اس دعا سے آپ کے اس مقام کا بآسانی پتہ لگتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں تھا۔اللہ تعالیٰ کی محبت ہی میں آپ گم تھے اور آپ کے قلب پر اُسی کا