سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 534 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 534

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳۴ حصہ پنجم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن و احسان کو دیکھ کر۔اس سے اسلام اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایک خاص غیرت اور جوش آپ کے قلب میں پیدا ہوتا ہے۔یہ دور آپ کی ماموریت اور بعثت کے قریب زمانہ کا ہے۔اس وقت آپ کی دعاؤں میں جیسا کہ میں وقتاً فوقتاً انشاء اللہ دکھاؤں گا ایک نئی شان پیدا ہوتی ہے۔ان میں اسلام کی ترقی اور عظمت کے لئے ایک جوش پایا جاتا ہے۔اور جب اس عہد کی دعاؤں کو دیکھتے ہیں تو اس میں اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ حالت پر اس قدر ہم و غم آپ کے قلب پر معلوم ہوتا ہے کہ اگر ساری دنیا کے مسلمانوں کے احساس اور غم کو ایک طرف رکھ دیا جائے جو حالت اسلام پر نوحہ کرتے اور خود حضرت کا ایک طرف تو آپ کا پلہ بھاری رہے گا۔پھر ایک اور دور آتا ہے۔آپ ایک مامور کی حیثیت سے دنیا میں نمودار ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس منصب جلیل پر مامور ہوتے ہیں جس کی بشارت تمام نبی دیتے آئے۔اور جس کی منتظر تمام قومیں تھیں اور جس کی آمد کو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ظہور قرار دیا تھا اور فر مایا تھا کہ تم میں سے جو کوئی اسے پاوے میر اسلام اُس کو پہنچائے۔اس عہد میں آپ کی دعاؤں کا رنگ بالکل الگ ہے۔ان کی شان نرالی ہے۔ان میں پر شوکت تحدی ہے اور قوت و جلال نظر آتا ہے۔اپنے دعاوی کی صداقت پر ایسی بصیرت حاصل ہے۔اور ہونی ہی چاہیے کہ وہ وحی الہی کی بنا پر ہے۔اور خدا کا ہاتھ آپ کی پشت پر ہے۔انسان ان دعاؤں کو دیکھ کر ایک وقت تو تھر آجاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر انصاف اور شرافت کو انسان جواب نہ دے دے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہر عہد کی فقط دعاؤں کو دیکھ کر یقین کر اٹھتا ہے کہ لاریب یہ شخص اپنی دعاؤں میں صادق ہے لیکن علم خشک اور کوری ء باطن انسان کو ایسی صداقت سے محروم کر دیتی ہے۔خود حضرت نے بھی فرمایا سے گر علم خشک وکوری ء باطن نہ رہ زدے ہر عالم وفقیہ شدے ہمچو چا کریم لا ترجمہ۔اگر خشک علم اور دل کی نابینائی حائل نہ ہوتی تو ہر عالم اور فقیہ میرے آگے غلاموں کی طرح ہوتا۔