سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 533 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 533

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳۳ حصہ پنجم بیشتر حصہ اس کوفت اور کرب میں گزارتے ہیں جو امت محمدیہ کی اعتقادی اور عملی خرابیوں کو دیکھ کر ہوتا تھا اور ایک مضطرب قلب کو لے کر آپ اللہ تعالیٰ کے حضور گرتے ہیں اور اس کی استعانت طلب کرتے ہیں نہ صرف اندرونی حالت سے صدمہ ہوتا تھا بلکہ جب بیرونی حملوں کو دیکھتے تھے کہ مختلف مذاہب کی طرف سے اسلام کی تعلیم اور پاکوں کے سردار خیل انبیاء علیہم السلام کے امام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جگر خراش اعتراض ہوتے ہیں تو آپ کا اضطراب اور بھی بڑھ جاتا تھا اور یہ ماحول آپ کے لئے دعاؤں کا محرک ہوتا تھا اس مقصد کے لئے آپ نے اس قدر دعائیں کی ہیں۔کہ بلا مبالغہ ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔آپ کا ہر سانس ایک آہ بن کر نکلتا تھا اور وہ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ صرف اور صرف عظمت اسلام اور صداقت محمدیہ کے اظہار کے لئے۔(۹) زمانہ خلوت کی ایک مناجات اس مناجات میں جہاں سے دعا شروع ہوتی ہے اس پر میں نے نمبر دے دیئے ہیں پہلے چار اشعار میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی صفات کا ذکر کیا ہے اور دعا کے لئے ایک جزو اعظم ہے کہ اولاً اللہ تعالیٰ کی حمد ہو جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔(عرفانی) میں اس کتاب کے پڑھنے والوں کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو جب پڑھیں تو انہیں خصوصیت سے اس امر کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ غور کریں کہ ایک شخص عالم تنہائی میں جبکہ کوئی اسے نہیں دیکھتا اپنے مولا کے حضور اپنی تمناؤں اور آرزؤں کو پیش کرتا ہے۔ان تمناؤں میں دنیا یا اس کے مالوفات کا ذکر نہیں اس کی ساری امنگوں اور آرزؤں کا مرکز خود حضرت باری عَزَّ اِسْمُہ کی ذات ہے۔سیہ ایک دور ہے جو ابتدائی دور آپ کی زندگی کا ہے۔اس دور میں آپ حضرت باری کے ساتھ محبت واخلاص اور عبودیت کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے کی ایک تڑپ اور اضطراب اپنے قلب میں پاتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت اور عشق پیدا ہوتا ہے۔اور وہ