سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 532 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 532

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳۲ جوش آپ کی فطرت میں رکھا گیا تھا جو دعاؤں کے ذریعہ ظاہر ہوتا تھا جیسا کہ میں پیچھے بھی بیان کر آیا ہوں اور آئندہ بھی غالباً کئی مرتبہ اس کا ذکر آئے ایک موقع پر فرماتے ہیں: اکثر دلوں پر حُبّ دنیا کا گرد بیٹھا ہوا ہے۔خدا اس گرد کو اٹھاوے۔خدا اس ظلمت کو دور کرے۔دنیا بہت ہی بے وفا اور انسان بہت ہی بے بنیاد ہے مگر غفلت کی سخت تاریکیوں نے اکثر لوگوں کو اصلیت کے سمجھنے سے محروم رکھا ہے۔خدا وند کریم سے یہی تمنا ہے کہ اپنے عاجز بندوں کی کامل طور پر دستگیری کرے اور جیسے انہوں نے اپنے گزشتہ زمانہ میں طرح طرح کے زخم اٹھائے ہیں ویسا ہی ان کو مر ہم عطا فرمادے اور اُن کو ذلیل اور رسوا کرے جنہوں نے نور کو تاریکی اور تاریکی کو نو رسمجھ لیا ہے اور جن کی شوخی حد سے زیادہ بڑھ گئی اور نیز ان لوگوں کو بھی نادم اور منفعل کرے۔جنہوں نے حضرت احدیت کی توجہ کو جو عین اپنے وقت پر ہوئی غنیمت نہیں سمجھا اور اس کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ جاہلوں کی طرح شک میں پڑے۔سواگر اس عاجز کی فریادیں رب العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں جو نور محمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور الہی طاقتیں اپنے عجائبات دکھلا وہیں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد اول محرره ۹ فروری ۱۸۸۳ء صفحه ۵۰۴ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۱۳٬۵۱۲ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اَللَّهُمَّ اصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اللَّهُمَّ ارْحَمُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اللَّهُمَّ انْزِلُ عَلَيْنَا بَرَكَاتِ مُحَمَّدٍ وَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكُ وَسَلِّمُ غرض یہ ایک غیر متناہی سلسلہ ہے جو قبل بعثت آپ اسی قسم کی دعاؤں میں مصروف تھے اور جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے یہی وہ دعا ئیں تھیں جنہوں نے عرش کو جنبش دی اور خدا تعالیٰ کی تجلی نے اُس قلب احمد کو اپنا عرش بنایا اور ان دعاؤں کی قبولیت کے ثبوت میں بطور ایک آیت اللہ مامور و مبعوث فرمایا۔آپ کی اس عہد کی زندگی میں آپ کا محبوب اور مرغوب مشغلہ یہی نظر آتا ہے کہ اپنے وقت کا