سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 522 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 522

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۲ بیان کیا ہے مگر ۶۰ ،۱۸۶ء کا کلام میں نے شروع میں درج کیا ہے اس کو ایک خالی الذہن انسان جب پڑھتا ہے تو اس پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ صاحب کلام کے دل میں امت مرحومہ کے لئے کس قد رغم ہے اور کس طرح حالت کفر کو دیکھ کر وہ درد سے بے چین ہو کر کراہ رہا ہے اور پھر جیسے جیسے معرفت اور بصیرت بڑھتی گئی اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کا مظہر آپ کا قلب صافی ہوتا گیا اسی قدر یہ درد اور بے قراری بڑھتی گئی چنانچہ ایک مقام پر فرماتے ہیں ؎ (۱) ایس دوفکر دین احمد مغز جانِ ما گداخت کثرت اعدائے ملت قلت انصار دینی (۲) اے خدا زود آو بر ما آب نصرت با بار یا مرا بردار یا رب زین مقام آتشین غرض آپ کی زندگی میں بچپن اور شباب سے اپنی ماموریت کے اعلان تک ایک نہ تھمنے والا طوفانِ اشک غم ملت میں اٹھتا ہوا نظر آتا ہے۔اس کلام کے ایک ایک شعر پر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ غم ملت میں یہ ۲۵ ، ۲۶ برس کا نوجوان کس طرح بے تاب اور نوحہ کناں ہے۔عمر کے اس حصہ میں جب کہ انسانی زندگی میں ایک تلاطم برپا ہوتا ہے اس نو جوان کے سینہ میں بھی ایک طوفان برپا ہے مگر وہ دنیا سے نرالا ہے وہ دنیا کو معصیت اور ناپاکی سے پاک کر دینے کے لئے طوفان ہے وہ دین احمد کے جلال اور شوکت واقبال کے لئے دعاؤں کا جوش ہے۔مبارک وہ جو اس سے برکت پاوے۔(۳) مولوی عبد اللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے دعا اگر چہ میں آپ کے عہد شباب کی اپنی دعاؤں کا تذکرہ کر رہا ہوں اور اس سے میری مراد وہ دعائیں ہیں جو آپ کرتے تھے مگر اس سلسلہ میں ایک اور دعا کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے وہ آپ ہی کی دعا ہے لیکن آپ نے ایک نیک مرد کو کہا کہ میرے لئے دعا کریں یہ مرد نیک مولوی سید عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ تھے جو اپنے وقت کے صلحاء میں سے تھے اور اپنے ملک سے نکال دیئے گئے تھے حمد ترجمہ۔(۱) دین احمد کے متعلق ان دوفکروں نے میری جان کا مغز گھلا دیا اعدائے ملت کی کثرت اور انصارِ دین کی قلت۔(۲) اے خدا جلد آ اور ہم پر اپنی نصرت کی بارش برسا۔ورنہ اے میرے رب اس آتشیں جگہ سے مجھ کو اٹھا لے۔