سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 521
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۱ حصہ پنجم (۸) سخت شورے بر فلک افتاد زان عجز و دعا قدسیاں را نیز شد چشم از غم آں اشکبار (۹) آخر از عجز و مناجات و تضرع کردنش شد نگاه لطف حق بر عالم تاریک و تار آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه۲۵،۲۴) نورمحمدی کے ظہور کے لئے دعائیں اسی طرح پر دنیا کی حالت کو دیکھتے ہوئے آپ کا جگر پانی پانی ہو جاتا تھا اور بجز دعاؤں کے آپ کا کام نہ تھا۔ان دعاؤں کے آثار اور نشان کہیں کہیں ملتے ہیں چنانچہ ایک مکتوب میں پہلے دنیا کی حالت کا مختصر نقشہ کھینچا اور اس پر اظہار افسوس کیا ہے کہ لوگوں کے دلوں پر خت دنیا کا گرد بیٹھا ہوا ہے اور غفلت کی سخت تاریکیوں نے اکثر لوگوں کو اصلیت کے سمجھنے سے محروم کر رکھا ہے اور پھر فرماتے ہیں۔اگر اس عاجز کی فریادیں رب العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں جو نور محمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور الہی طاقتیں اپنے عجائبات دکھلا دیں۔“ مکتوب محتره ۹ رفروری ۱۸۸۳ء بنام میر عباس علی شاہ صاحب مکتوبات احمد جلد اصفه۵۱۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) یہ وہ زمانہ ہے کہ آپ خلوت گزیں اور جلوت سے بیزار رہتے لیکن یہ ظاہر ہے کہ آپ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جلال وانوار کے لئے بے انتہا مضطرب اور نالہ کناں تھے حضرت رب العزت کے آستانہ پر روز وشب یہی پکار اور فریاد تھی اور آپ کو منجانب اللہ یقین دلایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کی تجلی اور نورمحمدی کے ظہور کا وقت آ پہنچا ہے۔کوئی دعا اس وقت اپنی ذات یا اپنے عزیزوں وغیرہ کے لئے نہیں بلکہ اسلام کے غلبہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمام نور کے لیے تھیں۔یہ تو ۱۸۸۳ء کا واقعہ ہے جو میں نے اوپر ترجمہ اشعار۔(۸) اس کے عجز ودعا کی وجہ سے آسمان پر سخت شور برپا ہوگیا اور اس کے غم کی وجہ سے فرشتوں کی آنکھیں بھی غم سے اشکبار ہو گئیں۔(۹) آخر کار اُس کی عاجزی ، مناجات اور گریہ وزاری کی وجہ سے خدا نے تاریک و تار دنیا پر مہربانی کی نظر فرمائی۔