سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 514
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱۴ حصہ پنجم (۱) اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات پر خطاب کرتے ہیں ☆ (1) من نہ بیچم سر از تو اے جانان دامن خود ز دست من مربان (۲) من ز مادر برائے تو زادم ہست عشقت غرض ز ایجادم که دلدارم بس هست غیور (۳) سوئے دیگر کسے مبین نہ حضور (۴) دل بدنائے دون چرا بندیم し بیار عزیز خورسندیم (۵) دلبر من تو ہستی اے جانان دل بتو بسته ام ز ہر دو جہاں (1) من ز مادر برائے تو زادم ہست عشقت غرض ز ایجادم (۷) دل ز عشق کے تپد مرا اے مبارک کسے کہ دید مرا (۸) روئے دلدار بردل من تافت دل من مقصد دو عالم یافت (۹) بر سر ہر صدی برون آید آنکه دلدار را ہے شاید (۱۰) عز خود گر دہی برائے نگار عر خود را بتو بنهد دلدار ا حاشیہ۔میں ان اشعار کا ترجمہ دے دینا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ بدقسمتی سے اس وقت فارسی کی طرف توجہ بہت کم رہ گئی ہے۔ترجمہ۔(۱) اے میرے محبوب (مولا) میں آپ کے حضور سے سرتابی نہیں کروں گا۔اپنے دامن کو میرے ہاتھ سے نہ چھڑائیے۔(۲) مجھے تو میری ماں نے آپ ہی کے لیے جنا ہے۔میری پیدائش کی تو غرض ہی آپ کا عشق ہے۔(۳) اے دل کسی اور طرف نظر نہ کر۔(یاد رکھ ) کہ میرا محبوب بہت غیور ہے۔(۴) دنیائے دون پر ہم کس لئے دل لگائیں۔ہماری ساری خوشیوں کا ( مرکز ) تو یار عزیز ہے۔(۵)اے میرے محبوب مولیٰ میرا دلبر تو تُو ہی ہے۔میں نے دونوں جہانوں میں سے آپ ہی سے دل کو وابستہ کر لیا ہے۔(۶) مجھے تو میری ماں نے آپ ہی کے لئے جنا ہے۔میری پیدائش کی تو غرض ہی آپ کا عشق ہے۔(۷) میرا دل اللہ تعالیٰ ہی کے عشق میں پیتا ہے۔وہ شخص مبارک ہے جس نے مجھے دیکھا۔نوٹ۔یہاں گسے کا لفظ رکھ کر عظمت الہی کو بیان کیا ہے۔(۸) میرے محبوب نے میرے قلب پر چہرہ نمائی کی۔اور میرے دل نے دونوں جہاں کے مقاصد کو پالیا۔(۹) وہ وجود ہر صدی کے سر پر ظہور کرتا ہے۔جو محبوب مولیٰ کو پسند ہوتا ہے۔(۱۰) اگر اس محبوب مولی کے لئے تو اپنی عزت کو قربان کرتا ہے۔وہ محبوب اپنی عزت تیرے لئے عطا کرتا ہے۔