سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 487
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸۷ حصہ پنجم اور دعاؤں میں آپ خدا کی تمام مخلوق پر شفقت فرماتے تھے اور ہر شخص کے لئے خواہ وہ کسی مذہب وملت کا ہو درخوست کرنے پر دعا فرمایا کرتے تھے اور آپ اپنی دعاؤں میں اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو بھی شریک فرمایا کرتے تھے۔آپ کی دعاؤں کا عجیب انداز ہے۔قرآن کریم سارے کا سارا آپ نے دعاؤں ہی کے ذریعے حضرت باری سے پڑھا ہے۔یہ بات شاید بعض لوگوں کو عجیب معلوم ہومگر یہ ایک واقعہ اور حقیقت ہے۔آپ جن ایام میں سیالکوٹ میں مقیم تھے (۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء) حضرت حکیم میر حسام الدین مرحوم کو آپ کی خدمت میں جانے کا اکثر اتفاق ہوتا تھا۔انہوں نے حضرت اقدس سے طب کی بعض کتابیں بھی پڑھی تھیں وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ قرآن کریم کی بعض آیات آپ لکھ کر اپنے سامنے لٹکا لیتے اور عام طور پر قرآن مجید روروکر پڑھا کرتے اور دعا کرتے کہ یا اللہ یہ تیرا کلام ہے تو ہی سمجھائے گا تو سمجھوں گا۔یہ آپ کی دعاؤں کا مفہوم تھا اور اس مقصد کے لئے کہ دعا کے لئے بار بار تحریک ہو۔آپ ایک آیت لکھ کر لٹکا لیتے اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفہیم ہو جاتی تو پھر آپ دوسری آیت لکھ کر لٹکا لیتے اور دعاؤں میں مصروف رہتے۔اس طرح پر قرآن مجید کو آپ نے دعاؤں ہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے پڑھا۔دعاؤں کی قبولیت کے اس قدر نشان آپ نے دیکھے تھے اور اس نسخہ کہ ایسا محبوب پایا تھا کہ ہر مرض اور مشکل کے لئے اس کو ہی استعمال کرتے تھے۔دعاؤں کی قوت اور اثر کو آپ دنیا کی ہر قوت سے بڑھ کر یقین کرتے تھے اور اپنی دعاؤں میں اس تاثیر قبولیت کا آپ کو اس لئے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ فرمایا تھا۔ایک دفعہ حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ کو ایک مکتوب میں آپ نے قوت و اثر دعا کا چندا شعار میں ذکر کیا تھا کہ۔بغیر کسی فخر کے مجھے یقین ہے کہ میری دعا معمولی نہیں۔