سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 478 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 478

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷۸ عہد ماموریت کی دعاؤں میں خصوصیت کے ساتھ پر شوکت تحدی ہے جب آپ مقابلہ میں نکلتے ہیں تو عہد صعود کی خاکساری کی جگہ خدائے تعالیٰ کی دی ہوئے کبریائی لے لیتی ہے۔اور ایک قوت و جلال نظر آتا ہے اپنے دعاوی کی صداقت پر ایسی بصیرت ہے جو محض وحی الہی سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کا ہاتھ آپ کی پشت پر ہے۔بعض اوقات انسان دعاؤں کو دیکھ کر تھرا اٹھتا ہے۔میرا اپنا یہ حال ہے کہ میں ان کو پڑھ بھی نہیں سکتا دل کانپتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی قہری تجلیوں کا نزول مشاہدہ میں آتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر انسان انصاف اور شرافت نفس سے کام لے تو آپ کی دعاؤں کو دیکھ کر ہی اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ لاریب یہی شخص اپنی دعاؤں میں صادق ہے لیکن علم خشک اور کوری باطن بعض اوقات انسان کو قبول حق سے محروم کر دیتی ہے۔گر علم خشک و کوري باطن نہ رہ زدے ہر عالم و فقیہ شدے ہم چو چاکرم عہد ماموریت کی دعاؤں میں ایک اور امتیازی خصوصیت بھی نظر آتی ہے کہ گو دعاؤں کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی زندگی کے ان پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے جو جلوت کی بجائے خلوت سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان میں یہ حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ وہ خدا کی مخلوق کے ساتھ شفقت و ہمدردی کے جوش سے لبریز ہیں اور یا ان میں ایک علمی امتیاز ہے یہ مسلمہ امر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کا حربہ لے کر آئے تھے اور آپ نے مخالفین اور منکرین کو ہر میدان میں علمی ہو یا عملی دعاؤں کی بے نظیر قوت سے شکست دی۔دعاؤں کا علمی امتیاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصانیف میں جو متحد یا نہ اور اعجازی قوت ہے وہ آپ کی دعاؤں کی قبولیت کا نمونہ ہے حضرت مسیح موعود کی تصانیف میں جو اہم مضامین ہیں وہ دعاؤں کے ذریعہ نازل ہوئے ہیں اور عربی تصانیف تو خصوصیت سے ان دعاؤں کی قبولیت ہی کا نتیجہ ہیں۔