سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 479
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷۹ جو دوران تحریر میں آپ فرماتے تھے۔حضرت کا معمول تھا کہ وہ ہر ایک تصنیف کو جو معرکتہ الآرا ہو تحدی یا اعجازی رنگ میں پیش کی جانے والی ہو۔دعا اور استخاروں کے بعد خصوصاً شروع کرتے اور یوں ہر مرتبہ جب آپ قلم اٹھاتے تو دعا کے بعد اٹھاتے تا کہ خدا کی تائید اور نصرت آپ کی رفیق قلم ہو دوران تصنیف میں اگر کوئی مشکل پیش آئی تو اسی وقت دعا کی اور وہ حل ہو گئی۔اس طرح پر آپ کی دعاؤں کی قبولیت کے علمی نشانوں کو جمع کیا جاوے تو وہ بے شمار ہوں گے۔افسوس ہمارے نو جوان دوستوں میں اس قسم کا شوق نہیں پایا جاتا وہ الحکم کے ان اشارات سے ہی کام لے کر کچھ مددکریں۔غرض آپ کی اس قسم کی دعاؤں کی تعداد لا انتہا ہے میں محض خوش اعتقادی کے طور پر باتیں بنانے کا عادی نہیں ہوں۔میں نے حضور کو پڑھا ہے اور آپ کو نفسیات کی روشنی میں دیکھا ہے۔اپنی ان باتوں کا ثبوت رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۲۶ رستمبر ۱۸۹۸ء کو جبکہ صبح کی نماز کے بعد حسب معمول تشریف فرما تھے آپ نے فرمایا۔میں نے عربی تصانیف کے دوران میں تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے کہ کس قدر کثرت سے میری دعائیں قبول ہوئی ہیں۔ایک ایک لفظ پر دعا کی ہے اور میں رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم کو و متنی کرتا ہوں۔( کیونکہ ان کے طفیل اور اقتداء سے تو یہ سب کچھ ملا ہی ہے ) اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میری دعا ئیں اس قدر قبول ہوئی ہیں کہ کسی کی نہیں ہوئی ہوں گی۔میں نہیں کہہ سکتا کہ دس ہزار یا دولاکھ یا کتنی۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه ۲ ۱۸ مطبوعہ ربوہ ) اس سے آپ کی دعاؤں کی قبولیت کا علمی اعجاز ثابت ہے۔آپ کی دعاؤں کا ایک اور شاندار پہلو اب میں آپ کی دعاؤں کا ایک اور نہایت ہی شاندار پہلو دکھانا چاہتا ہوں جس کو پڑھ کر ہر احمدی کی روح یقیناً وجد کرے گی۔اور وہ محسوس کرے گا کہ اس نے ایک ایسے وجود سے تعلق پیدا