سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 461
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۱ حصہ پنجم جب کہ ہماری روح ایک چیز کے طلب کرنے میں بڑی سرگرمی اور سوز و گداز کے ساتھ مبدء فیض کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور اپنے تئیں عاجز پا کر فکر کے ذریعہ سے کسی اور جگہ سے روشنی ڈھونڈتی ہے تو درحقیقت ہماری وہ حالت بھی دُعا کی ایک حالت ہوتی ہے۔اُسی دُعا کے ذریعہ سے دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوئی ہیں۔اور ہر ایک بہت اعلم کی گنجی دُعا ہی ہے اور کوئی علم اور معرفت کا قیقہ نہیں جو بغیر اس کے ظہور میں آیا ہو۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد نمبر ۴ صفحه ۲۳۰،۲۲۹) (۶) عارفوں اور مجو بوں کی دعا میں کیا فرق ہے؟ 66 ”ہمارا سوچنا ہمارا فکر کرنا اور ہمارا طلب امر مخفی کے لئے خیال کو دوڑ انا یہ سب امور دُعا ہی میں داخل ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ عارفوں کی دُعا آداب معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور اُن کی روح مبدء فیض کو شناخت کر کے بصیرت کے ساتھ اس کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور مجو بوں کی دُعا صرف ایک سرگردانی ہے جو فکر اور غور اور طلب اسباب کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ سے ربط معرفت نہیں اور نہ اس پر یقین ہے وہ بھی فکر اور غور کے وسیلہ سے یہی چاہتے ہیں کہ غیب سے کوئی کامیابی کی بات اُن کے دل میں پڑ جائے اور ایک عارف دُعا کرنے والا بھی اپنے خدا سے یہی چاہتا ہے کہ کامیابی کی راہ اس پر کھلے لیکن مجوب جو خدا تعالیٰ سے رابطہ نہیں رکھتا وہ مبدء فیض کو نہیں جانتا اور عارف کی طرح اس کی طبیعت بھی سرگردانی کے وقت ایک اور جگہ سے مدد چاہتی ہے اور اسی مدد کے پانے کے لئے وہ فکر کرتا ہے۔مگر عارف اُس مبدء کو دیکھتا ہے اور یہ تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ جو کچھ فکر اور خوض کے بعد بھی دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔اور خدا تعالیٰ متفکر کے فکر کو بطور دُعا قرار دے کر بطور قبول دُعا اس علم کو فکر کرنے والے کے دل میں ڈالتا ہے۔غرض جو حکمت اور معرفت کا نکتہ فکر کے ذریعہ سے دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا سے ہی ،