سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 462
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۲ حصہ پنجم آتا ہے اور فکر کرنے والا اگر چہ نہ سمجھے مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ مجھ سے ہی مانگ رہا ہے۔سو آخر وہ خدا سے اس مطلب کو پاتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ طریق طلب روشنی اگر علی وجہ البصیرت اور ہادی حقیقی کی شناخت کے ساتھ ہو تو یہ عارفانہ دُعا ہے اور اگر صرف فکر اور خوض کے ذریعہ سے یہ روشنی لا معلوم مبدء سے طلب کی جائے اور منور حقیقی کی ذات پر کامل نظر نہ ہو تو وہ مجو بانہ دعا ہے۔“ 66 ایام الصلح روحانی خزائن جلد نمبر ۴ صفحه ۲۳۰، ۲۳۱) (۷) قانون قدرت میں قبولیت دعا کی نظیر میں موجود ہیں قانوں قدرت میں قبولیت دعا کی نظیریں موجود ہیں اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے۔اسی لئے اس نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة: ۷،۶ ) کی دُعا تعلیم فرمائی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا منشاء اور قانون ہے اور کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا سے پایا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر۔ان الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر تو اشارۃ النص کے طور پر اس سے دُعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے۔صراط مستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے ، لیکن اس کے سر پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة: ۵) بتا رہا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔یعنی صراط مستقیم کے منازل کے لئے قوائے سلیم سے کام لے کر استعانت الہی کو مانگنا چاہیے۔پس ظاہری اسباب کی رعایت ضروری ہے۔جو اس کو چھوڑتا ہے، وہ کا فر نعمت ہے۔دیکھو! یہ زبان جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور عروق واعصاب سے اس کو بنایا ہے۔اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم بول نہ سکتے۔ایسی زبان دُعا کے لیے عطا کی جو قلب کے خیالات اور ارادوں کو ظاہر کر سکے (اگر ہم دُعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں تو ہماری شور بختی ہے۔بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جائیں تو وہ یکدفعہ ہی کام چھوڑ بیٹھتی ہے ) یہ رحیمیت ہے۔ایسا ہی قلب میں