سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 439
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۹ جماعت سیالکوٹ بھی اس موقعہ پر لاہور حاضر ہوئی۔اور اس نے حضرت کے حضور سیالکوٹ جانے کے لئے درخواست کی جس کو حضور نے منظور فرمالیا تھا۔اس عہد کو پورا کرنے کے لئے آپ ۱/۲۷ اکتوبر کو روانہ ہوئے۔اس سفر کے حالات سوانح حیات میں تفصیل سے انشاء اللہ آجائیں گے۔مجھے اس مقام پر صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ضبط نفس اور حوصلہ وحلم کا ایک مرقع دکھانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری کی خبر سن کر بڑے بڑے جگادری مخالف وہاں جمع ہو گئے تھے۔پیر جماعت علی شاہ صاحب سب کے پیشرو تھے۔اور جعفر زینتی وغیرہ کو بھی بلالیا گیا تھا۔چنانچہ ۲۴ رنومبر ۱۹۰ء کے احکام میں میں نے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ۹۰۴ آدم کے ابتدائی دشمن نے اپنی ہلاکت کو محسوس کرتے ہوئے مخالفت حق کا پہلو اختیار کرنا چاہا اس کے بعد ہمارے مخالف لوگوں نے امرتسر ، لاہور اور دوسرے مقامات سے جہاں ان کو موقع ملا ان لوگوں کو بلایا۔جو اس سلسلہ کی مخالفت اور تلخ اور نازیبا مخالفت میں دستار فضیلت حاصل کر چکے تھے۔جوں جوں حضرت اقدس کی آمد کا شہرہ سیالکوٹ میں ہوتا گیا۔اور آنے کے دن قریب ہوتے گئے۔اسی قدر مخالفت کا بازار گرم اور تیز ہو گیا۔“ غرض یہ تو ابتدائی تیاری تھی۔لوگوں کو حضرت اقدس کی زیارت کے لئے نہ جانے کی ہدایت کی اور یہاں تک بھی کہ جو شخص وہاں جائے گا اُس کی عورت پر طلاق ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔اور جس راستہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیکچر گاہ کو جانا تھا۔وہاں مختلف مقامات پر بظاہر وعظ کے اڈے بنائے گئے مگر در حقیقت وہ گالیوں اور بد زبانی استہزاء اور ٹھٹھا کرنے کے اڈے تھے میں نے اس وقت اس نظارہ کو دیکھ کر جو نوٹ لکھا تھا۔اس جگہ اُسے بجنسہ درج کرنا پسند کرتا ہوں۔”راستہ میں گزرتے وقت مخالفوں کے اڈوں اور مجمعوں پر بھی ہم نے نظر کی وہاں کیا ہوتا ہے۔ہم خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر بغیر کسی ضد یا تعصب کے لکھتے ہیں۔کیونکہ ہم تو ان مخالفوں اور سب و شتم کرنے والوں کو اس کھیت کی کھاد سمجھتے ہیں۔وہ اس بازار کی رونق کا ذریعہ ہیں۔اور اس حسن کی خوبیوں کے اظہار کا باعث وَ نِعْمَ مَا قِيلَ