سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 438 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 438

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۸ دیکھا تو وہی خط تھے جن میں بعض رجسٹرڈ خط تھے اور آپ ان کے جواب کے منتظر تھے حامد علی کو بلوایا اور خط دکھا کر بڑی نرمی سے صرف اتنا ہی کہا۔”حامد علی تمہیں نسیان بہت ہو گیا ہے ذرا فکر سے کام کیا کرو۔ایک ہی چیز ہے جو آپ کو متاثر کرتی اور جنبش میں لاتی اور حد سے زیادہ غصہ دلاتی ہے۔وہ ہے ہتک حرمات اللہ اور اہانت شعائر اللہ۔فرمایا۔”میری جائیداد کا تباہ ہونا اور میرے بچوں کا آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہونا مجھ پر آسمان ہے بہ نسبت دین کی ہتک اور استخفاف کے دیکھنے اور اس پر صبر کرنے کے۔جن دنوں میں وہ موذی اور خبیث کتاب امہات المؤمنین، جس میں بجز دل آزاری کے اور کوئی معقول بات نہیں چھپ کر آئی ہے اس قد رصدمہ اس کے دیکھنے سے آپ کو ہوا کہ زبانی فرمایا۔”ہمارا آرام تلخ ہو گیا ہے۔یہ اُسی صدمہ اور توجہ الی اللہ کا نتیجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس باطل عظیم اور شرک جسیم ( مسیح کی الوہیت اور کفارہ ) کے استیصال کے لئے وہ حربہ آپ کے ہاتھ میں دیا یعنی مرہم عیسی اور مسیح کی قبر کا نشان کشمیر میں آپ کو ملا۔نزدیک ہے دور نہیں کہ مسیح کی قبر اس باطل کے پرستاروں کے گھر گھر میں ماتم ڈالے اور مسلمانوں کے دل ٹھنڈے ہوں اور اس رنج کو بھول جائیں جواس نا پاک کتاب سے انہیں پہنچا۔“ (سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مصنفہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحه ۵۳ تا ۵۵) سیالکوٹ کے سفر میں حلم وضبط نفس کے نظارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ اکتو بر ۱۹۰۴ء کی صبح کو ۲ بجے کے قریب دارالامان سے روانہ ہوکراسی روز سیالکوٹ پہنچے۔حضرت کا یہ سفر ایک ایفاء عہد کی وجہ سے تھا۔گورداسپور میں مقدمات کا ایک سلسلہ عرصہ سے جاری تھا۔انہی دنوں میں چند روز کے لئے حضور لا ہور تشریف لے گئے۔