سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 437
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۷ ان امور پر تفصیلی بحث ہوسکتی ہے کہ وہ اس ملاقات و مکالمات سے کس طرح پر ثابت ہیں۔لیکن یہ مقام اس مقصد کے لئے نہیں مجھے صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوصلہ اور حلم کے ایک موقع کو پیش کرنا تھا کہ ایسے مواقع پر بھی جب کہ دوسروں کو اشتعال اور جوش ہوسکتا تھا۔آپ صبر اور حوصلہ سے کام لے کر عملاً جماعت کی تربیت فرماتے تھے میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا حوصلہ اور حلم اسی حد تک تھا۔جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہوتا تھا۔شعائر اللہ کی ہتک اور توہین آپ برداشت نہ کرتے تھے۔اس لئے کہ یہ غیرت دینی کے خلاف تھا چنانچہ حضرت مخدوم الملت اس خصوص میں فرماتے ہیں۔” آپ بچوں کی خبر گیری اور پرورش اس طرح کرتے ہیں کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہوگی۔اور بیماری میں اس قدر توجہ کرتے ہیں اور تیمار داری اور علاج میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ گویا اور کوئی فکر ہی نہیں۔مگر باریک بین دیکھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور خدا کے لئے اس کی ضعیف مخلوق کی رعایت اور پرورش مدنظر ہے۔آپ کی پہلوٹی بیٹی عصمت لدھیانہ میں ہیضہ سے بیمار ہوئی آپ اس کے علاج میں یوں دوا دوی کرتے کہ گویا اُس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف واصطلاح میں اولاد کا بھوکا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکاہی کر نہیں سکتا مگر جب وہ مرگئی آپ یوں الگ ہو گئے گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اور جب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی۔یہ مصالحت اور مسالمت خدا کی قضاء و قدر سے بجر منجانب اللہ لوگوں کے ممکن نہیں۔کوئی نوکر کوکتنابڑا نقصان کر دے آپ معاف کر دیتے اور معمولی چشم نمائی بھی نہیں کرتے حامد علی کو کچھ لفافے اور کارڈ ڈاکخانہ میں ڈالنے کو دیئے فراموش کا رحامد علی کسی اور کام میں مصروف ہو گیا اور اپنے مفوض کام کو بھول گیا۔ایک ہفتہ کے بعد محمود جو ہنوز بچہ تھا کچھ لفافے اور کارڈ لئے دوڑا آیا کہ ابا ہم نے کوڑے کے ڈھیر سے خط نکالے ہیں آپ نے