سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 431
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۱ ایک بد زبان ہندوستانی اور حضرت کا حوصلہ ” آپ دینی سائل کو خواہ کیسا ہی بے باکی سے بات چیت کرے اور گفتگو بھی آپ کے دعوئی کے متعلق ہو بڑی نرمی سے جواب دیتے اور تحمل سے کوشش کرتے ہیں کہ آپ کا مطلب سمجھ جائے۔ایک روز ایک ہندوستانی جس کو اپنے علم پر بڑا ناز تھا اور اپنے تئیں جہاں گرد اور سرد و گرم زمانہ دیدہ و چشیدہ ظاہر کرتا تھا ہماری مسجد میں آیا اور حضرت سے آپ کے دعوے کی نسبت بڑی گستاخی سے باب کلام وا کیا اور تھوڑی گفتگو کے بعد کئی دفعہ کہا آپ اپنے دعوے میں کا ذب ہیں اور میں نے ایسے مکار بہت سے دیکھے ہیں اور میں تو ایسے کئی بغل میں دبائے پھرتا ہوں غرض ایسے ہی بے باکانہ الفاظ کہے مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔بڑے سکون سے سنا کئے اور پھر بڑی نرمی سے اپنی نوبت پر کلام شروع کیا۔کسی کا کلام کیسا ہی بیہودہ اور بے موقعہ ہو اور کسی کا کوئی مضمون نظم میں یا نثر میں کیسا ہی بے ربط اور غیر موزوں ہو آپ نے سننے کے وقت یا بعد خلوت میں کبھی نفرت اور ملامت کا اظہار نہیں کیا۔بسا اوقات بعض سامعین اس دلخراش کغو کلام سے گھبرا کر اٹھ گئے ہیں اور آپس میں نفرین کے طور پر کا نا پھوسی کی ہے اور مجلس کے برخاست ہونے کے بعد تو ہر ایک نے اپنے اپنے حوصلے اور ارمان بھی نکالے ہیں مگر مظہر خدا کی حلیم اور شاکر ذات نے کبھی بھی ایسا کوئی اشارہ کنایہ نہیں کیا۔“ (سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مصنفہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی صفر ۴۴) شیخ عبدالرحمان صاحب فرید آبادی کا واقعہ میرے نہایت ہی مکرم بھائی اور مخلص دوست ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی رضی اللہ عنہ کے نام سے بہت لوگ واقف نہیں۔میں انشاء اللہ العزیز تو فیق ملنے پر اُن کا تذکرہ لکھوں گا۔وہ ایک قابل جرنلسٹ اور پنجاب کے بعض مشہور اخبارات چودہویں صدی اور وکیل کے ایڈیٹر رہ چکے تھے۔وہ