سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 432 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 432

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۲ بڑے شہروں میں اپنے قلم سے بہت کچھ کما سکتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کی رضا محض کے لئے قادیان ہجرت کر کے آگئے۔اور منزل مقصود کو پالیا۔ان کے ایک بھائی شیخ عبدالرحمن صاحب ہیں۔میں نے ماسٹر صاحب کی تحریک پر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب قبلہ کے صاحبزادوں کی خدمت کے لئے ان کو رکھوا دیا۔ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور لوگ شام کو اپنے مضامین نظم و نثر سنایا کرتے تھے۔میں نے شیخ صاحب کو تحریک کی کہ آپ بھی نظم لکھیں۔وہ سادہ مزاج ہیں انہوں نے بھی ایک بے ربط سی نظم لکھی جس کا ایک شعر یہ ہے۔نوابین نے جبکہ ہم کو پکارا رہا افراتفری میں مضموں ہمارا ی نظم جب انہوں نے پڑھی تو مجلس میں عجب لطف پیدا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محبت آمیز تقسیم سے اسے سنا۔اور جب تک انہوں نے ختم نہ کر لیا۔نہایت صبر اور حوصلہ سے سنتے رہے۔یہ واقعہ تو ضمناً موقعہ کی مناسبت سے آ گیا۔میں یہ بیان کر رہا تھا کہ حضرت کے حضور بعض اوقات ایسے لوگ پیش ہوئے ہیں۔جنہوں نے نہایت شوخی اور بے باکی سے گفتگو کی۔اور ایسی باتیں کیں جو آپ کو اور حاضرین کو جوش دلا سکتی تھیں۔اور بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ حاضرین میں سے کوئی برداشت نہ کر سکا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت حوصلہ اور صبر کے ساتھ سنتے اور جب جواب دینے لگتے تو اس میں محبت اور ہمدردی کے جذبات شرافت و متانت عالی ہمتی اور خود ضبطی کی تاثیرات نمایاں ہوتی تھیں۔خود اس گستاخ اور بے ادب معترض اور مخالف کو بھی شرم آجاتی تھی۔اور خدام اور مخلصین کی تو روحانی تربیت اور منازل سلوک کو طے کرانے کا طریق ہی یہ ہو گیا تھا۔۲۹ جنوری ۱۹۰۴ء کا یہ واقعہ ہے کہ حضرت کے حضور ایک گالیاں دینے والے اخبار کا تذکرہ آیا فرما یا صبر کرنا چاہیے ان گالیوں سے کیا ہوتا ہے۔ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کے لوگ آپ کی مذمت کیا کرتے تھے۔اور آپ کو نعوذ باللہ مدم کہا کرتے تھے۔تو آپ ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ میں ان کی مذمت کو کیا کروں۔میرا نام تو اللہ تعالیٰ نے مـحـمـد رکھا ہوا ہے۔(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اسی طرح اللہ نے مجھے بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میری نسبت فرمایا۔يَحْمَدُكَ