سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 418
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۸ منشی عبدالحق لاہوری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کا انتظام جن دنوں امرتسر میں ڈپٹی آٹھم سے مباحثہ تھا ایک رات خان محمد شاہ مرحوم کے مکان پر بڑا مجمع تھا۔اطراف سے بہت سے دوست مباحثہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔حضرت اس دن جس کی شام کا واقعہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں معمولاً سر درد سے بیمار ہو گئے تھے شام کو جب مشتاقان زیارت ہمہ تن چشم انتظار ہو رہے تھے۔حضرت مجمع میں تشریف لائے۔منشی عبدالحق صاحب لاہوری پنشنر نے کمال محبت اور رسم دوستی کی بنا پر بیماری کی تکلیف کی نسبت پوچھنا شروع کیا اور کہا کہ آپ کا کام بہت نازک اور آپ کے سر پر بھاری فرائض کا بوجھ ہے آپ کو چاہیے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال کریں اور ایک خاص مقوی غذا لازماً آپ کے لئے ہر روز طیار ہونی چاہیے۔حضرت نے فرمایا۔”ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے کبھی کبھی کہا بھی ہے مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں ایسی مصروف ہوتی ہیں کہ اور باتوں کی چنداں پروانہیں کرتیں۔“ اس پر ہمارے پرانے موحد خوش اخلاق نرم طبع مولوی عبد اللہ غزنوی کے مرید نشی عبد الحق صاحب فرماتے ہیں۔اجی حضرت آپ ڈانٹ ڈپٹ کر نہیں کہتے اور رعب پیدا نہیں کرتے۔میرا یہ حال ہے کہ میں کھانے کے لئے خاص اہتمام کیا کرتا ہوں اور ممکن ہے کہ میرا حکم کبھی ٹل جائے اور میرے کھانے کے اہتمام خاص میں کوئی سَر مو فرق آجائے ورنہ ہم دوسری طرح خبر لیں۔‘ میں ایک طرف بیٹھا تھا منشی صاحب کی اس بات پر اس وقت خوش ہوا اس لئے کہ یہ بات بظاہر میرے محبوب و آقا کے حق میں تھی اور میں خود فرط محبت سے اسی سوچ بچار میں رہتا تھا کہ معمولی غذا سے زیادہ عمدہ غذا آپ کے لئے ہونی چاہیے اور دماغی محنت کرنے والے انسان کے حق میں لنگر کا معمولی کھا نا بدل ما يَتَحَلَّل نہیں ہوسکتا۔اس بنا پر میں نے منشی صاحب کو اپنا بڑا موید