سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 410
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۰ ان کے ایسے نازک وقت میں قادیان سے سخت مجبوری کے ساتھ مجھے آنا پڑا اور جس خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے میں حریص تھا وہ آپ کو ملا۔امید کہ آپ ہر روز خبر لیں گے۔اور دعا بھی کرتے رہیں گے اور میں بھی دعا کرتا ہوں۔ایک دوسرے خط میں جو اس سے پہلے آیا۔حضرت نے لکھا تھا کہ ” اور میری دلی خواہش ہے کہ آپ تکلیف اٹھا کر ایک دفعہ اخویم بابوشاہ دین صاحب کو دیکھ لیا کریں۔اور مناسب تجویز کریں۔میں بھی ان کے لئے پانچ وقت دعا میں مشغول ہوں وہ بڑے مخلص ہیں ان کی طرف ضرور پوری توجہ کریں۔“ مجھ کو ضرورت نہیں کہ ان گرامی نامہ جات پر کسی قسم کا حاشیہ لکھوں۔ان کے الفاظ اس روح مواسات کا اظہار کر رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں کام کر رہی تھی۔البتہ اس وقت کے حالات اور واقعات کو دکھانا چاہتا ہوں۔حضرت ام المومنین کی علالت کے باعث حضور بغرض علاج لا ہور تشریف لے گئے ہیں اور حضور کی مصروفیت آپ کے مقام اور منصب کے لحاظ سے ان ایام میں بمقام لا ہور جو ہوگئی تھی۔وہ ظاہر ہے۔مختلف طبقوں اور خیالات کے لوگ حضرت کی خدمت میں آرہے ہیں۔اور مخالفین سلسلہ اپنی شورشوں سے آپ کی توجہ کو الگ اپنی طرف مبذول کرار ہے۔مگر باوجود ان تمام مصروفیتوں کے حضور کو بابوشاہ دین صاحب کا خیال نہیں بھولتا۔یہی نہیں کہ آپ کو احساس ہے۔اور آپ اپنے ایک مخلص اور بے ریا خادم حضرت ڈاکٹر رشید الدین صاحب کو توجہ دلا رہے ہیں۔بلکہ آپ لاہور بحالت مجبوری جانے کا عذر پیش کر کے فرماتے ہیں کہ ”میں شرمندہ ہوں کہ ایسے نازک وقت میں قادیان سے سخت مجبوری کے ساتھ مجھے آنا پڑا۔“ اس احساس شرمندگی کی قدر و قیمت اس قدر بلند ہے کہ دنیا کے عرفی الفاظ یا چاندی سونا کے سکے اور جواہرات اس کے مقابلہ میں ٹھہر ہی نہیں سکتے۔آپ کا مقام یہ ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بروز ہو کر نازل ہوئے ہیں۔اور مسیح اور مہدی کے نام سے کھڑے کئے گئے ہیں۔بابوشاہ دین صاحب کو آپ کی غلامی کی سلک میں شامل ہونے پر ناز اور فخر