سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 400
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۰ ہے۔اس ہمدردی کا پہلا اور آخری مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے دور افتادہ بندے اس سے عہد صلح باندھ کر حقیقی عبودیت کے مقام پر کھڑے ہو جاویں اور ان میں زند ہ اور گناہ سوز ایمان پیدا ہو جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی فطرت اور رُوح ہمدردی کی طرف قرآن مجید کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:٢) یعنی اے نبی کیا تو اپنے آپ کو (اس ہم و غم میں ) ہلاک کر لے گا کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوتے۔جس جس قدر ان کی زندگی کا مطالعہ کریں گے ان کے ہر فعل اور قول میں انسانی ہمدردی کی روح موجود ہوگی۔اور کسی وقت بھی وہ اس مقصد کو اپنے سامنے سے اوجھل نہیں ہونے دیتے۔اور اس راہ میں ہر دکھ اور ہر قربانی کو آسان سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین لکھتے وقت اسی جوش اور جذبہ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا بدل در دیکه دارم از برائے طالبان حقیقی نے گردد بیاں آں درد از تقریر کوتا ہم اور آپ کی زندگی کے مختلف شعبوں اور شیون میں اسی جذبہ کا عملی اظہار نظر آتا ہے۔وہ اپنے سے سلوک کرتے ہیں تو اپنے نفس کے لئے نہیں بلکہ ان کی بھلائی اور بہتری کے لئے۔غیروں سے باوجود گالیاں سننے اور دکھ اور تکلیف پر تکلیف محسوس کرنے کے ان کے لئے دعائیں کرتے اور حتی الوسع اخلاقی اور مادی مدد سے بھی دریغ نہیں کرتے۔میں اسی سیرت میں دکھا آیا ہوں کہ جاں ستاں دشمنوں کے ساتھ بھی آپ کا سلوک کیسا کریمانہ اور ہمدردانہ تھا۔وہ اپنے سخت سے سخت دشمنوں کو بھی ایسے وقت جب کہ انہیں انتقام لینے کا پورا موقع اور مقدرت حاصل تھی معاف کر دیتے تھے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ پادری مارٹن کلارک جس نے اقدام قتل کا جھوٹا مقدمہ آپ پر دائر کیا تھا، کو با جود یکہ عدالت اقدام باجود نے کہا کہ آپ کو ان پر مقدمہ چلانے کا حق ہے۔معاف کر دیا۔اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ( جواسی مقدمہ میں خطر ناک گواہ بن کر آیا تھا اور حضرت کا جائز حق تھا کہ اسے رسوا اور ذلیل ہونے دیا ترجمہ۔وہ درد جو میں طالبانِ حق کے لئے اپنے دل میں رکھتا ہوں۔اُس درد کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔