سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 399
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۹ توڑنا پسند نہ فرماتے تھے اور شرف انسانیت کی گمشدہ متاع کو پھر واپس لانا چاہتے تھے۔وہ لوگ جو آپ کے تنخواہ دار ملازم اور نوکر تھے ان کے ساتھ بھی آپ کا سلوک اسی قسم کا تھا جیسا کہ میں مناسب مقامات پر اس کا ذکر کر آیا ہوں۔رشتہ ناطہ میں بھی آپ نے امتیاز نہیں رکھا تمدنی پہلو کے لحاظ سے رشتوں ناطوں کا بھی ایک معاملہ ہے۔اس موقعہ پر بھی انسان اپنی قوم کے تعصبات کو ترک نہیں کرتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عملی طور پر اپنے صاحبزادوں اور صاحبزادی کے رشتوں کے سلسلہ میں دکھا دیا کہ آپ صرف نبی پابندیوں میں پھنسنا پسند نہیں فرماتے تھے۔آپ نے ان تمام رشتوں میں اخلاص۔صدق۔نیکی اور تقویٰ کے امور کوملحوظ خاطر رکھا۔گو یہ امر دوسرا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان رشتوں میں عرفی شرافتوں اور بزرگیوں کو بھی جمع کر دیا۔میرا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ حضور نے رشتوں ناطوں کو اپنی قوم کو مغلوں تک محدود نہ رکھا۔ایک بھی رشتہ مغلوں میں نہ کیا اس میں صرف آپ کو ذات پات کے بند ہنوں کو کاٹنا مقصود تھا اور جماعت میں مساوات کی ایک لہر پیدا کر دینا آپ کے زیر نظر تھا۔اور جو تعلیم عملی رنگ میں دی جاوے وہ زیادہ مؤثر نتیجہ خیز ہوتی ہے۔یہ نسبت ایسی تعلیم کے جو محض تقریروں یا تحریروں کی حد سے آگے نہ جانے پاوے۔حضور فرمایا کرتے تھے از عمل ثابت کن آں نوری که در ایمان تست ☆ دل چو دادی یوسفے را راہِ کنعاں را گزین خدا تعالیٰ کی مخلوق سے عام ہمدردی کا جذبہ خدا تعالیٰ کے مامور و مرسلین کی بعثت کی غرض ہی اس کی مخلوق کی ہمدردی ہوتی ہے اور وہ ہمدردی میں کچھ ایسے خمیر کئے جاتے ہیں کہ انہیں دوسروں کے لئے اپنی جان دے دینی آسان معلوم ہوتی حملہ ترجمہ۔اس نور کو جو تیرے ایمان میں ہے اپنے عمل سے ثابت کر جب تو نے یوسف کو دل دیا تو کنعان کا رستہ بھی اختیار کر۔