سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 397
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۷ طریق خطاب میں احترام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عام طریق خطاب تھا کہ کبھی کسی کو تو یا اؤ کے لفظ سے نہیں پکارتے تھے۔میں نے ہمیشہ اس امر کو غور سے مطالعہ کیا اور میں نے دیکھا کہ یہ آپ سے گویا فطرتاً سرزد ہوتا ہے کہ دوسروں کو عزت و احترام سے پکار ہیں۔حضرت مخدوم الملت رضی اللہ عنہ اپنے تجربہ کی بناء پر فرماتے ہیں۔آپ اپنے خدام کو بڑے ادب اور احترام سے پکارتے ہیں اور حاضر و غائب ہر ایک کا نام ادب سے لیتے ہیں۔میں نے بارہا سنا ہے اندر اپنی زوجہ محترمہ سے آپ گفتگو کر رہے ہیں اور اس اثناء میں کسی خادم کا نام زبان پر آ گیا ہے تو بڑے ادب سے لیا ہے جیسے سامنے لیا کرتے ہیں۔کبھی تو کر کے کسی کو خطاب نہیں کرتے تحریروں میں جیسا آپ کا عام رویہ ہے ” حضرت اخویم مولوی صاحب اور اخویم حبی فِی اللہ مولوی صاحب اسی طرح تقریر میں بھی فرماتے ہیں۔”حضرت مولوی صاحب یوں فرماتے تھے۔میں نے اکثر فقراء اور پیروں کو دیکھا ہے وہ عار سمجھتے ہیں اور اپنے قدر کی کا وش خیال کرتے ہیں اگر مرید کوعزت سے یاد کریں۔کیسر شاہ ایک رند بے باک فقیر تھا اس کا بیٹا کوئی ۲۴ یا ۲۵ برس کی عمر کا تھا سخت بے باک شراب خوار اور تمام قسم کی منہیات کا مرتکب تھا وہ سیالکوٹ میں آیا۔شیخ اللہ داد صاحب مرحوم محافظ دفتر جو شہر میں معزز اور اپنی ظاہری وجاہت کے سبب سے مانے ہوئے تھے بدقسمتی اور علم دین سے بے خبر ہونے کے سبب سے اُس کے باپ کے مرید تھے۔وہ لڑکا آپ کے مکان میں اتر امیں نے خود دیکھا کہ وہ شیخ صاحب سے جب مخاطب ہوتا ان ہی لفظوں میں ہوتا اللہ داد بھائی توں ایہ کم کرناں۔“ غرض بڑے بڑے شیخ اور پیر دیکھے گئے ہیں انہیں ادب اور احترام سے اپنے متوسلین کے نام لینا گویا بڑی بدکاری کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے۔میں نے اتنے دراز عرصہ