سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 389 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 389

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ باتیں پوری ہو جائیں خواہ میں ہلاک کیوں نہ ہو جاؤں۔برادران ! یہ ایمان تو میں مسلمانوں کے مردوں میں بھی نہیں دیکھتا۔کیا ہی مبارک ہے وہ مرد اور مبارک ہے وہ عورت جن کا تعلق باہم ایسا سچا اور مصفا ہے اور کیا بہشت کا نمونہ وہ گھر ہے جس کا ایسا مالک اور ایسے اہل بیت ہیں۔میرا اعتقاد ہے کہ شوہر کے نیک و بد اور اس کے مکار اور فریبی یا راستباز اور متقی ہونے سے عورت خوب آگاہ ہوتی ہے۔حقیقت میں ایسے خلا ملا کے رفیق سے کون سی بات مخفی رہ سکتی ہے میں ہمیشہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی بڑی محکم دلیل سمجھا اور مانا کرتا ہوں آپ کے ہم عمر اورمحرم راز دوستوں اور ازواج مطہرات کے آپ پر صدق دل سے ایمان لانے اور اس پر آپ کی زندگی میں اور موت کے بعد پورے اثبات اور وفاداری سے قائم رہنے کو۔صحابہ کو ایسی شامہ اور کامل زیر کی بخشی گئی تھی کہ وہ اس محمد میں جو اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کہتا اور اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جو إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ اِلَيْكُمُ جَمِيعًا کہتا۔صاف تمیز کرتے۔وہ بے فخش اخوان الصفا اور آپ کی بیبیاں جیسے اس محمد سے جو بشر محض ہے ایک وقت انبساط اور بے تکلفی سے گفتگو کرتے اور کبھی کبھی معمولی کاروبار کے معاملات میں پس و پیش اور ر دو قدح بھی کرتے ہیں اور ایک وقت ایسے اختلاط اور موانست کی باتیں کر رہی ہیں کہ کوئی حجاب حشمت اور پردہ تکلف درمیان نہیں وہی دوسرے وقت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل یوں سرنگوں اور متأدب بیٹھے ہیں گو یا ٹھے ہیں جن پر پرندے بھی بے باکی سے گھونسلا بنا لیتے ہیں اور تقدم اور رفع صوت کو آپ کے حضور میں حَبطِ اَعمال کا موجب جانتے ہیں اور ایسے مطیع و منقاد ہیں کہ اپنا ارادہ اور اپنا علم اور اپنی رسم اور اپنی ہوا امر رسول کے مقابل یوں ترک کر دیتے ہیں کہ گویا وہ بے عقل اور بے ارادہ کٹھ پتلیاں ہیں ایسی مخلصانہ اطاعت اور خودی اور خود رائی کی کینچلی سے صاف نکل آنا ممکن نہیں جب تک دلوں کو کسی کے بچے بے ریا اور منجانب اللہ زندگی کا زندہ یقین پیدا نہ ہو جائے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں حضرت اقدس کو آپ