سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 388 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 388

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۸ اور سدھا ہوا نہ تھا۔مگر خدا معلوم اسے کہاں سے یہ یقین ہو گیا کہ یہ پاک وجود بے شر اور بے ضرر وجود ہے اور یہ وہ ہے کہ جس نے کبھی چیونٹی کو بھی پاؤں تلے نہیں مسلا۔اور جس کا ہاتھ کبھی دشمن پر بھی نہیں اٹھا۔غرض ایک عرصہ کے بعد وہاں ظہر کی اذان ہوئی۔تو آپ کو پھر کھانا یاد آیا۔آواز دی خادمہ دوڑی آئی عرض کیا کہ میں تو مدت ہوئی کھانا آپ کے آگے رکھ کر آپ کو اطلاع کر آئی تھی اس پر آپ نے مسکرا کر فرمایا۔اچھا تو ہم شام کو ہی کھائیں گے۔حضرت کی زوجہ محترمہ آپ سے بیعت ہیں اور آپ کے منجانب اللہ ہونے پر صدق دل سے ایمان رکھتی ہیں۔سخت سے سخت بیماریوں اور اضطراب کے وقتوں میں جیسا اعتماد انہیں حضرت کی دعا پر ہے کسی چیز پر نہیں۔وہ ہر بات میں حضرت کو صادق و مصدوق مانتی ہیں۔جیسے کوئی جلیل سے جلیل صحابی مانتا ہے۔اُن کے کامل ایمان اور راسخ اعتقاد کا ایک بین ثبوت سنئے۔عورتوں کی فطرت میں سوت کا کیسا بُرا تصور ودیعت کیا گیا ہے۔کوئی لگتا 66 بھیا نک قابل نفرت چیز عورت کے لئے سوت سے زیادہ نہیں۔عربی میں سوت کو حضرہ “ کہتے ہیں حضرت کی اُس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے جو ایک نکاح کے متعلق ہے اور جس کا ایک حصہ خدا کے فضل سے پورا ہو چکا ہے اور دوسرا دور نہیں ( خدا تعالیٰ نے اس حصّہ کو دوسرے رنگ میں پورا کر دیا۔عرفانی) کہ خدا کے بندوں کو خوش کرے۔حضرت بیوی صاحبہ مکرمہ نے بار ہا رو رو کر دعائیں کی ہیں اور بار ہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ گو میری زنانه فطرت کراہت کرتی ہے مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت اور جھوٹ کا زوال وابطال ہو۔ایک روز دعا مانگ رہی تھیں۔حضرت نے پوچھا آپ کیا دعامانگتی ہیں؟ آپ نے بات سنائی کہ یہ مانگ رہی ہوں۔حضرت نے فرمایا۔سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے آپ نے فرمایا۔کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس کا پاس ہے کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی