سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 387
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۷ کسی ضعف یا عارضہ کا مقتضا تھا کہ وہ چیز لازم تیار ہوتی اور اس کے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا اور کبھی کبھی جو لکھنے یا توجہ الی اللہ سے نزول کیا ہے تو یاد آ گیا ہے کہ کھانا کھانا ہے اور منتظر ہیں کہ وہ چیز آتی ہے آخر وقت اس کھانے کا گزر گیا اور شام کے کھانے کا وقت آگیا ہے اس پر بھی کوئی گرفت نہیں۔اور جونرمی سے پوچھا ہے اور عذر کیا گیا ہے کہ دھیان نہیں رہا تو مسکرا کر الگ ہو گئے ہیں۔اللہ اللہ ادنی خدمت گار اور اندر کی عورتیں جو کچھ چاہتی ہیں پکاتی کھاتی ہیں اور ایسا تصرف ہے کہ گویا اپنا ہی گھر اور اثاث البیت ہے۔اور حضرت کے کھانے کے متعلق کبھی ذہول اور تغافل بھی ہو جائے تو کوئی گرفت نہیں کبھی نرم لفظوں میں بھی یہ نہ کہا کہ دیکھو یہ کیا حال ہے تمہیں خوف خدا کرنا چاہیے۔یہ باتیں ہیں جو یقین دلاتی ہیں کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا سچ ہے کہ میں اپنے رب کے ہاں سے کھا تا اور پیتا ہوں۔اور حضرت امام علیہ السلام بھی فرماتے ہیں۔من می زدیم بوحی خدائے کہ با من است پیغام اوست چون نفسِ روح پرورم حقیقت میں اگر یہ سچ نہ ہو تو کون تاب لا سکتا ہے اور ان فوق العادت فطرت رکھنے والے انسانوں کے سوا کس کا دل گردہ ہے کہ ایسے حالات پر قناعت کر سکے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت لکھ رہے تھے ایک خادمہ کھا نا لائی اور حضرت کے سامنے رکھ دیا اور عرض کیا کہ کھانا حاضر ہے۔فرمایا کیا خوب مجھے بھوک لگ رہی تھی اور میں آواز دینے کو تھا وہ چلی گئی اور آپ پھر لکھنے میں مصروف ہو گئے۔اتنے میں کتا آیا اور بڑی فراغت سے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا اور برتنوں کو بھی خوب صاف کیا۔اور بڑے سکون اور وقار سے چل دیا۔اللہ اللہ ان جانوروں کو بھی کیا عرفان بخشا گیا ہے وہ کتا اگر چہ رکھا ہوا ترجمہ۔میں تو اس خدا کی وحی کے سہارے جیتا ہوں جو میرے ساتھ ہے اس کا الہام میرے لئے زندگی بخش سانس کی طرح ہے۔