سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 369 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 369

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۹ بشیر الدین محمود احمد صاحب کے لئے ایک پیشگوئی کا رنگ رکھے گا۔حضرت میاں صاحب اس امتحان میں فیل ہوئے اور خدا کے حضور کا میاب ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے تبلیغ و اشاعت دین کا آپ سے وہ کام لیا۔جو آج ہم سب دیکھ رہے ہیں اور خدا کا شکر اور اس کی حمد ہے کہ ہم اس کے خدام میں داخل ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس اولو العزم کے ارادوں میں برکت دے۔آمین بچوں کی تربیت کہانیوں کے ذریعہ عام طور پر بچوں میں کہانیاں کہنے اور سنے کا شوق ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بچے بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہ تھے۔خصوصاً حضرت خلیفۃ اسیح ثانی کو کہانیاں سننے کا بہت شوق ہوتا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ان کی دلداری نہیں بلکہ تربیت کے خیال سے کہانیاں سننے کی اور دوسروں کو سنانے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے۔بلکہ خود بھی بعض اوقات سنا دیا کرتے تھے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح کے دوسرے حصہ کے صفحہ ۱۵۵ ( حیات احمد جلد اصفحہ ۲۴۱ تا ۲۴۵ شائع کردہ نظارت اشاعت) پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کہی ہوئی دو کہانیاں درج کی ہیں۔پہلی کہانی ایک گنجے اور اندھے کی تھی اس کہانی سے آپ کو یہ تعلیم دینا مقصود تھا کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو۔اور ان کی قدر کرو۔سوالی کو جھڑ کی نہ دو۔خیرات کرنا اچھی بات ہے۔اور سوالی کو کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔اس سے خدا تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور اپنی دی ہوئی نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔دوسری کہانی ایک بزرگ اور چور کی تھی۔اس کہانی سے آپ کو یہ تعلیم دینی تھی کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔کہانی کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے کیا کیا نعمتیں ملتی ہیں۔اور تقویٰ اختیار کرنے سے کیا دولت نصیب ہوتی ہے۔اور خدا تعالیٰ پر ایمان بڑھتا ہے کہ دیکھو وہ خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے۔وہی پاک اور سچا خدا ہے۔جو ہم تم