سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 354
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۴ ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہیے۔آپ نے قطعی طور پر فرمایا اور لکھ کر بھی ارشاد کیا کہ ہمارے مدرسہ میں جو استاد مارنے کی عادت رکھتا اور اپنے اس ناسز افعل سے باز نہ آتا ہوا سے یک لخت موقوف کر دو۔فرمایا۔ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد و آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں بس اس سے زیادہ نہیں اور اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں جیسا کسی میں سعادت کا ختم ہو گا وقت پر سرسبز ہو جائے گا۔“ مصنفہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی صفحہ ۳۷،۳۶) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو آداب مسجد سکھاتے ہیں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جو آج کل خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ کے ناظر تعلیم و تربیت ہیں اور جو خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے متعلق تالیف واقعات کا کام کر رہے ہیں۔ابھی بچے ہی تھے۔ارفروری ۱۹۰۴ء کی شام کا واقعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حسب معمول مسجد میں تشریف فرما تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے مسجد میں آگئے۔اور حضرت اقدس کے پاس آکر بیٹھ گئے اور اپنے لڑکپن کے باعث کسی بات کے یاد آجانے پر آپ دبی آواز سے کھل کر ہنس پڑتے تھے۔اس پر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مسجد میں ہنسنا نہ چاہیئے۔جب میاں صاحب نے دیکھا کہ ہنسی ضبط نہیں ہوتی۔تو چپکے سے چلے گئے اور حضرت اقدس کی نصیحت پر اس طرح عمل کر لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب کوئی بچہ آپ کی خدمت میں آتا تو آپ جگہ دینے کے لئے ایک طرف کو کھل جاتے اور اپنے پہلو میں اسے بیٹھنے کا موقعہ دیتے۔حضرت خليفة أسبح الثانى ( مَتَعَنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهِ - آمین ) اکثر آیا کرتے تھے۔صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب اور صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کم۔سیر میں بھی کبھی کبھی ساتھ ہو جاتے۔اور