سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 345
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۵ جو چیز اسے ناراض کرتی اور بے حد ناراض کرتی وہ صرف غیرت دینی تھی۔جہاں مذہب کا معاملہ ہوتا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا سوال ہوتا اس کے خلاف حضور کچھ نہیں سن سکتے تھے اور نہ اسے برداشت کر سکتے تھے۔آپ کے جس قدر بھی ملازم تھے یا مختلف اوقات میں جس کو حضور کے ساتھ اس قسم کے تعلق کی عزت حاصل ہوئی وہ اپنے ذاتی تجربہ سے اعتراف کرتا ہے کہ حضور سے بجز عفو و چشم پوشی اور لطف وکرم کے کچھ مشاہد ہ نہیں کیا۔اور یہ معمولی اور عام بات نہیں ہے۔میں نے اس عنوان کے شروع میں لکھا ہے کہ آج دنیا کی بہت بڑی مصیبت سرمایہ داری اور مزدوری کا سوال ہے خادم اور ملازم اپنے آقاؤں سے خوش نہیں اور ان کی سختیوں اور خوردہ گیریوں سے نالاں ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عملی زندگی میں اس مسئلہ کا آسان حل موجود ہے۔آپ کے پاس ہمیشہ نو کر رہے اور ہمیشہ ان سے غلطیوں کا صدور ہوا مگر آپ نے ہمیشہ ہی ان سے درگز رفرمایا۔نہ صرف در گزر بلکہ انہیں اپنے لطف وکرم کا موردرکھا اور کسی ایک نے بھی کبھی آپ کی بدسلوکی یا سخت گیری کی شکایت نہ کی۔میاں شمس الدین صاحب کا ایک واقعہ میاں شمس الدین صاحب کے والد ماجد قاضی فضل البی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی استاد تھے اور یہ قادیان میں قاضی یا ملاں تھے۔میاں شمس الدین صاحب خود بھی فارسی کے اچھے عالم تھے اور خوش نویس بھی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی غربت اور عیال داری پر رحم فرما کر آخر عمر تک ان کا کھانا اپنے ہاں رکھا ہوا تھا۔اور مختلف طریقوں سے ان کی مدد کرتے رہتے۔براہین احمدیہ کے مسودات کو خوشخط لکھنے کا کام بھی ان کو دے رکھا تھا۔اور اس کی اجرت الگ ان کو دیا کرتے تھے۔میاں شمس الدین صاحب ایک سادہ مزاج آدمی تھے۔انہیں ایام میں جب کہ وہ اس خدمت کے لئے مقرر تھے۔ایک مرتبہ لوہری کا تہوار آیا۔یہ ہندوؤں کا ایک تہوار ہے جس میں چھوٹی چھوٹی لڑکیاں گھروں میں جا کر لو بڑی مانگتی ہیں۔مسلمانوں کو اس تہوار سے کسی قسم کا تعلق نہیں۔