سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 344 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 344

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ طبیعت رسا تھی۔اور اپنی سمجھ کے موافق بعض اوقات قرآن کریم کے نکات بھی بیان کر دیا کرتے تھے۔اور اسی وجہ سے ان کے بے تکلف دوست ان کو مجتہد کہہ دیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو مہمانوں کی خدمت اور لنگر خانہ کے انتظام کے لئے مقرر کیا۔ان کی طبیعت اجڈ واقع ہوئی تھی۔اُن کی زبان بھی آسانی سے ہر شخص کو سمجھ نہ آتی تھی۔اور طریق کلام ایسا تھا کہ خواہ نخواہ سننے والے کو لڑنے جھگڑنے کا خیال ہوتا اور وہ اسے خشونت طبع کا نتیجہ سمجھتا۔مگر اصل یہ ہے کہ وہ بہت نیک اور خیر سگال واقع ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں مگن اور سرشار تھے۔اور اپنی بساط سے بڑھ کر اپنے مفوضہ کام کو سر انجام دینے کی کوشش کرتے رہتے۔لنگر خانہ کا کام۔ان کی طبیعت کی تیزی اور ان کی زبان کی کرختگی اور پھر انتظام میں اپنی مجتہدانہ طبیعت سے کام لینے کی عادت۔یہ سب باتیں مل ملا کر کئی دفعہ ایسی شکایات پیدا کر دیتی تھیں کہ اگر وہ کسی دوسری جگہ ہوتے تو خدا جانے کس تکلیف اور ذلت کے ساتھ الگ کر دیئے جاتے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے اخلاص اور محبت کو جانتے تھے اور اس کی قدر فرماتے تھے اور ان کی غلطیوں کو اعتراض کا رنگ نہ دیتے تھے۔بڑی سے بڑی بات جو آپ کبھی ان کو کہتے تو یہ ہوتی کہ میاں نجم الدین میں نے تم کو سمجھا دیا ہے۔اور تم پر حجت پوری کر دی ہے اگر تم نے غفلت کی۔تو اب تم خدا کے حضور جوابدہ ہو گے۔“ حضرت خود کوئی حساب نہ رکھتے۔بلکہ لنگر خانہ کا تمام حساب ان کے ہی سپر د تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام باوجود ان کے اجڑ پن اور کرختگی مزاج کے کبھی ان سے کشیدہ خاطر نہ ہوئے۔اور ہمیشہ ان کی محنت اور اخلاص سے کام کرنے کی قدر فرماتے رہے۔کسی شخص کی زندگی میں خواہ وہ کیسا ہی ہو۔یہ موقع کبھی نہیں آسکتا کہ وہ اپنے آقا کو ناراض نہ کرلے۔اور اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی اس سے نہ ہو جاوے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جیسا آقا نہیں ملے گا۔جو اپنے خدام کے قصوروں اور فرو گذاشتوں کو دیکھتا اور چشم کرم سے ان پر سے گزر جاتا اور ایک مرتبہ نہیں بیسیوں مرتبہ وہ اخلاق الہی میں ایسار نگین تھا کہ عملاً یہی فرماتا تھا صد بار اگر توبه شکستی باز آ