سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 9 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 9

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل رنج، ابتلا، مقدمات اور مصائب کے وقت آپ کا رنگ زرد ہوتے نہیں دیکھا گیا اور ہمیشہ چہرہ مبارک کندن کی طرح دمکتا رہتا تھا۔کسی مصیبت اور تکلیف نے اس چمک کو دور نہیں کیا۔علاوہ اس چمک اور نور کے آپ کے چہرہ پر ایک بشاشت اور قسم ہمیشہ رہتا تھا اور دیکھنے والے کہتے تھے کہ اگر یہ شخص مفتری ہے اور دل میں اپنے تئیں جھوٹا جانتا ہے تو اس کے چہرہ پر یہ بشاشت اور خوشی اور فتح اور طمامیت قلب کے آثار کیونکر ہو سکتے ہیں۔یہ نیک ظاہر کسی بد باطن کے ساتھ وابستہ نہیں رہ سکتا۔اور ایمان کا نور بد کار کے چہرہ پر درخشندہ نہیں ہو سکتا۔آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آ گیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں اور دل سخت منقبض ہیں۔بعض لوگ ناواقفی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ہر طرف سے اداسی کے آثار ظاہر ہیں۔لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رور ہے ہیں مگر یہ خدا کا شیر گھر سے نکلتا ہے ہنستا ہوا اور جماعت کے سر برآوردوں کو مسجد میں بلاتا ہے مسکرا تا ہوا۔ادھر حاضرین کے دل بیٹھے جاتے ہیں ادھر وہ کہہ رہا ہے کہ لو پیش گوئی پوری ہوگئی۔اِطَّلَعَ اللهُ عَلى هَمِّهِ وَ غَمه - مجھے الہام ہوا۔اس نے حق کی طرف رجوع کیا ، حق نے اس کی طرف رجوع کیا۔کسی نے اس کی بات مانی نہ مانی اس نے اپنی سُنا دی اور سننے والوں نے اس کے چہرہ کو دیکھ کر یقین کیا کہ یہ سچا ہے۔ہم کو غم کھا رہا ہے اور یہ بے فکر اور بے غم مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہا ہے اس طرح کہ گویا حق تعالیٰ نے آتھم کے معاملہ کا فیصلہ اسی کے اپنے ہاتھ میں دے دیا۔اور پھر اُس نے آتھم کا رجوع اور بیقراری دیکھ کر خود اپنی طرف سے مہلت دیدی اور اب اس طرح سے خوش ہے جس طرح ایک دشمن کو مغلوب کر کے ایک پہلوان پھر محض اپنی دریا دلی سے خود ہی اسے چھوڑ دیتا ہے کہ جاؤ ہم تم پر رحم کرتے ہیں۔ہم مرے کو مارنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔لیکھرام کی پیشگوئی پوری ہوئی۔مخبروں نے فورا اتہام لگانے شروع کئے۔پولیس میں تلاشی بقیہ نوٹ۔بلکہ جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کا رنگ گندم گوں فرمایا ہے وہ شان ہر وقت اس رنگ میں نمایاں اور آشکار رہتی تھی تا کہ اس نشان کی شہادت ملتی رہے اور لباس میں جو زرد رنگ کا اشارہ تھا وہ ہمیشہ ایک دائمی بیماری کی صورت میں ظاہر رہا۔(عرفانی)