سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 10 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 10

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا حصّہ اوّل کی درخواست کی گئی۔صاحب سپر نٹنڈنٹ پولیس یکا یک تلاشی کیلئے آموجود ہوئے۔لوگ الگ کر دیئے گئے اندر کے باہر باہر کے اندر نہیں جاسکتے۔مخالفین کا یہ زور کہ ایک حرف بھی تحریر کا مشتبہ نکلے تو پکڑ لیں مگر آپ کا یہ عالم کہ وہی خوشی اور مسرت چہرہ پر ہے اور خود پولیس افسروں کو لیجا لیجا کر اپنے بستے اور کتا بیں تحریریں اور خطوط اور کوٹھڑیاں اور مکان دکھا رہے ہیں۔کچھ خطوط انہوں نے مشکوک سمجھ کر اپنے قبضہ میں بھی کر لئے ہیں۔مگر یہاں وہی چہرہ ہے اور وہی مسکراہٹ۔گویا نہ صرف بے گناہی بلکہ ایک فتح مبین اور اتمام حجت کا موقعہ نزدیک آتا جاتا ہے۔برخلاف اس کے باہر جو لوگ بیٹھے ہیں ان کے چہروں کو دیکھو وہ ہر ایک کنسٹبل کو باہر نکلتے اور اندر جاتے دیکھ دیکھ کر سہمے جاتے ہیں۔ان کا رنگ فق ہے ان کو یہ معلوم نہیں کہ اندر تو وہ جس کی آبرو کا انہیں فکر ہے خود افسروں کو بلا بلا کر اپنے بستے اور اپنی تحریریں دکھلا رہا ہے اور اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ایسی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب حقیقت پیشگوئی کی پورے طور سے کھلے گی اور میرا دامن ہر طرح کی آلائش اور سازش سے پاک ثابت ہوگا۔غرض یہی حالت تمام مقدمات ، ابتلاؤں، مصائب اور مباحثات میں رہی اور یہ وہ اطمینانِ قلب کا اعلیٰ اور اکمل نمونہ تھا جسے دیکھ کر بہت سی سعید روحیں ایمان لے آئی تھیں۔آپ کے بال سر کے بال نہایت باریک سیدھے چکنے چمکدار اور نرم تھے اور مہندی کے رنگ سے رنگین رہتے تھے۔گھنے اور کثرت سے نہ تھے بلکہ کم کم اور نہایت ملائم تھے۔گردن تک لمبے تھے۔آپ نہ سر منڈواتے تھے نہ خشخاش یا اس کے قریب کتر واتے تھے بلکہ اتنے لمبے رکھتے تھے جیسے عام طور پر پیٹے رکھے جاتے ہیں۔سر میں تیل بھی ڈالتے تھے۔چنبیلی یا حنا وغیرہ کا۔یہ عادت تھی کہ بال سوکھے نہ رکھتے تھے۔