سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 326 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 326

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۶ کہ میں سویا ہوا تھا اور خواب میں دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود" میرے پاؤں دبا رہے ہیں۔اور میں جلدی میں اٹھا ہوں اور اپنی پگڑی تلاش کرتا ہوں۔ادھر یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ یکا یک انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص پاؤں دبا رہا ہے۔انہوں نے زور سے آواز دی۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔”میاں فضل الرحمان اٹھو جلدی کام ہے۔“ یہ گھبرا کر اٹھے اور انگیٹھی پر اپنی پگڑی تلاش کرنے لگے۔اندھیرا تھا۔حضرت نے پوچھا کیا کر رہے ہو۔انہوں نے عرض کیا کہ پگڑی تلاش کر رہا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ یہ میری پگڑی باندھ لو۔مولوی یار محمد صاحب آئے ہیں۔والدہ محمود بیمار ہیں۔تم فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر جاؤ۔میں خط لکھتا ہوں اور اُن کے قلم سے جواب لکھوا کر لاؤ۔مفتی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اٹھ کر گھوڑے کے آگے دانہ رکھ دیا۔اور تیار ہو گیا۔حضرت نے خط ختم کیا۔تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے فجر کی اذان دی۔میں سوار ہو کر چلا آیا۔اور یہ حیرت انگیز امر ہے میں نہیں جانتا میرے لئے زمین کس طرح سمٹ گئی۔میں قادیان پہنچا تو نماز ہورہی تھی۔میں نے گھوڑے کو دروازے کے ساتھ کھڑا کیا۔اور اوپر جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔حضرت اُم المومنین خود ہی تشریف لائیں۔اور میں نے واقعہ عرض کیا۔اور خط دے کر کہا کہ اس کے لفافہ پر ہی جلد حضور کو اپنی خیریت کی خبر لکھ دیں۔چنانچہ حضرت ام المومنین نے ایسا ہی کیا۔اور میں فور روانہ ہو گیا اور میں نہیں جانتا کیا ہوا کہ میرا گھوڑا گویا پرواز کرتا ہوا جا رہا تھا۔جب گورداسپور پہنچاہوں تو نماز ختم ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔کہ تم ابھی گئے نہیں۔میں نے عرض کیا کہ جواب لے آیا ہوں۔اور یہ کہہ کر وہ لفافہ پیش کر دیا۔آپ ہنستے رہے اور فرمایا کوئی اس کو کیا سمجھے مگر یہ معجزہ ہے یہ واقعہ اپنی اعجازی کیفیت کے ساتھ حضرت کی سادگی کی ایک بے نظیر مثال ہے۔ایک خادم کو جگانے کے لئے آپ نے اسے کس شفقت سے اٹھانا چاہا۔اور اپنی دستار مبارک ہی جھٹ دیدی۔کہ یہی باندھ لو۔اس واقعہ سے حضور کی حسن معاشرت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔