سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 321
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۱ اس سفر میں ہم سفر تھے۔حضرت مسیح موعود" سمجھ کر ہاتھ بڑھایا تا کہ مصافحہ کریں جناب نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے اپنے آقا و مولی کا پتہ دیا یہ محض آپ کی بے تکلفانہ زندگی کا ایک کرشمہ تھا۔جیسا کہ میں او پر لکھ آیا ہوں۔آپ کی مجلس میں آپ کے لئے کوئی خاص مسند اور امتیازی جگہ نہ ہوتی تھی۔اپنے خدام میں رل مل کر بیٹھا کرتے تھے۔گورداسپور میں کرم دین والے مقدمات کے ایام میں جب آپ جامن کے درختوں کے نیچے بیٹھا کرتے تھے۔تو ہزاروں آدمیوں نے دیکھا کہ آپ کس سادگی اور بے تکلفی سے زمرہ خدام میں تشریف فرما ہیں۔اکثر اوقات کیا روزانہ بڑے بڑے آدمی جو اپنی سوسائٹی میں معزز ومحترم ہوتے آتے۔اور آپ ان سے اسی طرح ملاقات فرماتے۔جس طرح پر ایک پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے خادم سے۔وہ بھی اسی آزادی سے عرض حال کرتا اور آپ سنتے۔اور ایک رئیس اور متمول اپنے رنگ میں گفتگو کرتا۔مگر آپ کے طرز عمل میں دونوں کے لئے جذبات ہمدردی اور محبت کا ایک ہی رنگ ہوتا۔غرض آپ کی ہر ادا اور ہر فعل سادگی اور بے تکلفی کا صحیح اور حقیقی مظہر ہوتا تھا۔بات بنا کر کرنی جانتے ہی نہ تھے۔صفائی سے جو کچھ کہنا ہوتا فرما دیتے۔ذو معنی الفاظ اور فقرے آپ کے قلم اور زبان سے کبھی نہیں نکلتے تھے۔اور کلام اور تحریر میں ملائمت ہوتی تھی۔بڑے بڑے دقیق اور عمیق مضامین اور مسائل جو فلاسفروں کی سمجھ میں بھی بمشکل آئیں۔ان کو ایسی آسانی سے آپ نے اپنی تحریروں میں حل فرمایا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔اور ایک ایسے عام فہم طریق سے اسے مدلل کر دیا ہے کہ ایک زمیندار اور دیہاتی جو کسی قسم کے علوم سے واقف نہیں ہے۔انہیں سمجھتا ہے اور نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ دوسروں کو سمجھا سکتا ہے۔