سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 322 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 322

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۲ جنگ مقدس کے ایام کا ایک اور واقعہ سادگی آپ کی سادگی اور بے تکلفی کے متعلق میرے ایک مکرم بھائی شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند پریس نے ایام جنگ مقدس کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اسے بھی یہاں دے دوں۔شیخ نور احمد صاحب کو براہین احمدیہ کے تمام و کمال چھاپنے کا موقعہ ملا ہے۔کچھ انہوں نے اپنے ہاتھ سے چھاپی ہے۔اور کچھ ان کے اپنے مطبع میں طبع ہوئی۔اس کے علاوہ عرصہ دراز تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب وہی چھاپتے رہے ہیں۔اور بعض اوقات وہ مہینوں اپنے پر لیس کو قادیان لے کر آ جاتے تھے۔اسی طرح آنے اور جانے میں انہیں نقصان بھی ہوا۔مگر جب حضرت اقدس انہیں بلاتے۔وہ فور حاضر ہو جاتے تھے۔اس وقت تک جبکہ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں وہ ۸۸ سال کے ہیں اور زندہ ہیں۔شیخ صاحب کہتے ہیں کہ جنگ مقدس کی تقریب پر بہت سے مہمان جمع ہو گئے تھے۔ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کھانا رکھنا یا پیش کرنا گھر میں بھول گیا۔میں نے اپنی اہلیہ کو تاکید کی ہوئی تھی مگر وہ بھی کثرت کا روبار اور مشغولیت کی وجہ سے بھول گئی۔یہاں تک کہ رات کا بہت بڑا حصہ گزر گیا۔اور حضرت نے بڑے انتظار کے بعد استفسار فرمایا۔تو سب کو فکر ہوئی۔بازار بھی بند ہو چکا تھا اور کھانا نہ مل سکا۔حضرت کے حضور صورت حال کا اظہار کیا گیا۔آپ نے فرمایا۔اس قدر گھبراہٹ اور تکلف کی کیا ضرورت ہے دستر خوان میں دیکھ لو کچھ بچا ہوا ہوگا۔وہی کافی ہے۔دستر خوان کو دیکھا تو اس میں روٹیوں کے چند ٹکڑے تھے۔آپ نے فرمایا یہی کافی ہیں۔اور ان میں سے ایک دوٹکڑے لے کر کھالئے اور بس۔بظاہر یہ واقعہ نہایت معمولی معلوم ہوگا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی اور بے تکلفی کا ایک حیرت انگیز اخلاقی معجزہ نمایاں ہے۔کھانے کے لئے اس وقت نئے سرے سے انتظام ہوسکتا تھا اور اس میں سب کو خوشی ہوتی مگر آپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ بے وقت تکلیف دی جاوے