سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 310
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی مقدار میں عطاء فرمایا۔۳۱۰ تریاق ہی کے متعلق حضور کا یہ طرز عمل نہ تھا۔بلکہ ادوایات کے متعلق تو حضور کا اسوہ یہ تھا۔کہ بعض اوقات تمام بوتل ہی حوالہ کر دیتے تھے۔میں نے دشمنوں سے سلوک کے باب میں بیان کیا ہے کہ کس طرح بعض اوقات آپ نے نہایت قیمتی اور اعلی درجہ کا ملک اپنے تلخ دشمنوں کو دے دیا۔احباب کی خوشیوں میں فیاضانہ حصہ لیتے تھے آپ کے طرز عمل سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپ دوستوں کی خوشیوں میں فیاضانہ حصہ لیتے تھے اور یہ طریق آپ کا اظہار محبت اور جو دو عطاء کی شان رکھتا تھا۔چنانچہ حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ کے نام جو خطوط وقتا فوقتا آپ نے تحریر فرمائے۔ان کے مطالعہ سے اور خود منشی صاحب موصوف کے بیان سے یہی ثابت ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ منشی صاحب موصوف کے ولیمہ میں اور دوسری مرتبہ عقیقہ فرزند میں اپنی طرف سے ایک رقم خرچ کر دی۔اور اس خرچ کرنے میں آپ کو خوشی اور انشراح تھا۔بعض اوقات لوگ اپنی اس قسم کی تقریبوں پر کچھ روپیہ حضرت کے حضور بھیج دیتے اور لکھ دیتے کہ وہاں دعوت احباب کر دیں۔مگر وہ تحریر کے وقت اس امر کو نا دانستہ بھول جاتے کہ قادیان کی دعوت چند آدمیوں کی دعوت نہیں ہو سکتی۔لیکن حضرت اقدس ان کو مکرر اس کے متعلق کچھ نہ لکھتے۔بلکہ اپنی گرہ سے ایک رقم ڈال کر ان کی تمنا کو پورا کر دیتے۔اور بارہا ایسے موقعہ آپ کو پیش آتے۔مگر کبھی اس کا ذکر اشارہ کنایہ بھی نہ کرتے بلکہ ہمیشہ ایسے موقعوں پر یہی فرماتے کہ فلاں دوست کی طرف سے دعوت ہے۔شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی کا واقعہ شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی میرے بتیس سال کے مخلص دوست اور بھائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم ہیں۔شروع ہی سے ان کی طبیعت صوفیانہ واقع ہوئی ہے۔اور صلحاء کی صحبت کا شوق دامنگیر رہا۔مدرسہ تعلیم الاسلام میں شروع سے آج تک مدرس ہیں۔اوائل میں وہی