سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 296 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 296

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۶ سنتے ہی فوراً اندر تشریف لے گئے اور کہہ گئے کہ ٹھہر وہ ہمیں ابھی لاتا ہوں۔چنانچہ آپ نے کوئی نصف تولہ کے قریب مشک لا کر اس کے حوالہ کر دی۔جود و عطا میں آپ کا ایثار آپ کی زندگی میں جو دو عطا کی ایک اور شان بھی جلوہ گر ہے جو شفاعت وسپارش کا رنگ رکھتی ہے۔بعض اوقات آپ کی خدمت میں کوئی ایسا سائل آتا جس کے سوال کو پورا کرنا آپ کے اختیار میں نہ ہوتا بلکہ اس کا تعلق دوسروں سے ہوتا۔اس حالت میں آپ اس امر کا بھی التزام رکھتے تھے کہ اس کے فائدہ کے لئے ایسے لوگوں کو بھی سپارش کر دیتے جن کو اپنی کسی ذاتی ضرورت کے لئے بھی کبھی کچھ نہ کہتے تھے اور یہ ایک ایسی کریمانہ اور مخلصانہ شان ہے کہ بہت ہی کم دنیا میں پائی جاتی ہے۔اس کے متعلق میں دو واقعات پیش کروں گا۔پہلا واقعہ شیخ محمد نصیب صاحب جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔وہ قادیان میں ایک سکھ عورت کے کرایہ دار تھے۔اُس نے ایک مرتبہ اُن کو کسی وجہ سے تنگ کیا اور وہ اس کے ہاتھ سے نالاں تھے۔وہ مکان خالی کرنے پر مجبور کر رہی تھی اور قادیان کی یہ حالت تھی کہ مکانات ملتے ہی نہ تھے۔میاں محمد نصیب صاحب نے حضرت کی خدمت میں اپنی تکلیف کا اظہار کیا۔حضرت کے اپنے مکانات میں کوئی حصہ ایسا نہ تھا کہ دیا جا سکتا اس لئے آپ نے اسی مکان کے متعلق رفع تکلیف کا وعدہ کیا اور اس کے لئے آپ نے جناب مرز انظام الدین کو کہلا بھیجا۔کیونکہ وہ مالکہ مکان ان کے زیر اثر تھی۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تکلیف رفع ہو گئی۔جو امر اس واقعہ میں قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ مرز انظام الدین صاحب اپنے بڑے بھائی مرزا امام الدین صاحب کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اچھے تعلقات نہ رکھتے تھے بلکہ عداوت اور مخالفت کا رنگ تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسرے کے آرام اور نفع کے لئے یہ پسند کر لیا کہ مرز انظام الدین صاحب کو بھی کہلا بھیجا کہ اس کی تکلیف کو رفع کر دیا جاوے۔