سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 293
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۳ ہوا نا صر خدا تیرا مرے اے قادیاں والے ہمیں بخشی اماں تو نے ہے اے دارلاماں والے پڑھا کرتا اور کبھی کبھی ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکا یا ہم نے“۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم پڑھتا تمام قادیان میں چکر لگاتا۔جب وہ دوسری نظم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پڑھا کرتا تو حضرت مخدوم الملت مولانا مولوی عبد الکریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت ناگوار ہوتا۔وہ فرمایا کرتے کہ یہ اس نظم کا اہل نہیں کیونکہ یہ نظم ایک حقیقت اور حال ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کے وجود میں پائی جاتی ہے۔جو کچھ اس نظم میں بیان کیا گیا ہے میں کسی دوسرے کے منہ سے غیرت کی وجہ سے سن ہی نہیں سکتا۔چہ جائیکہ اس قسم کا عامی سائل پڑھتا پھرے۔یہ تو مخدوم الملت کی اس محبت اور عشق کی کیفیت ہے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھا۔بہر حال اس سائل نے قادیان میں ایک چکر لگا یا رمضان کا مہینہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عرصہ میں متعدد مرتبہ اس کو بہت کچھ دیا لیکن وہ کہتا تھا میرا پیالہ بھر دو چنانچہ عید کے دن وہ بہت بڑا پیالہ لے کر آ گیا اور مسجد میں دروازہ کے قریب چادر بچھا کر بیٹھ گیا اور جب حضرت صاحب تشریف لائے تو سوال کیا کہ میرا پیالہ بھر دو۔حضرت اقدس نے اس میں ایک روپیہ ڈالا اس روپیہ کا ڈالنا تھا کہ روپوں کا مینہ برس گیا اور مختلف قسم کے سکوں سے اس کا پیالہ بھر دیا گیا۔جب حضرت صاحب نے اس کا سوال سنا تو متبسم ہوئے اور اس حالت میں وہ روپیہ ڈالا۔آپ کی عادت جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے عام طور پر مخفی دینے کی تھی مگر یہ عطا علانیہ تھی اوروه ” اَلدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ “ کی مصداق تھی۔غرض سائل شاداں و فرحاں گھر کو چلا گیا اور پھر اس نے یہ طریق سالانہ اختیار کرنا چاہا چونکہ گداگری کو آپ پسند نہیں فرماتے تھے اس لئے اس کو نا پسند فرمایا گو اُس کو آپ نے کچھ نہیں کہا مگر دوسرے لوگوں نے اس کو سمجھایا مگر گدا گر لوگ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔پھر بھی وہ کبھی کبھی آجاتا اور کچھ لے ہی جاتا۔