سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 290
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ ا ۲۹۰ اس کے ساتھ بھی سلوک کیا۔میاں غفارے کی شادی میں قیمتی زیور دے دیا میاں غفارا (عبد الغفار ) کشمیری جس کا ذکر میں نے حیات احمد کے دوسرے حصہ میں کیا ہے حضرت مسیح موعود کے احسان و مروت کے تذکرے کیا کرتا تھا اور ان میں اپنا یہ واقعہ بھی بیان کیا کرتا تھا کہ جب اُس کی شادی ہوئی تو آپ نے دو قیمتی زیور اس کی مدد کے لئے دے دیئے۔یہ آپ کی بعثت کے زمانہ سے پہلے کی بات ہے جبکہ آپ ایک گوشہ نشین کی صورت میں زندگی بسر کرتے تھے۔سوال کی بار یک صورتوں میں بھی آپ دے دیتے جیسے آپ کی عادت تھی کہ سائل کو کبھی رڈ نہ کرتے تھے اور جس طرح پر آپ بدوں سوال کرنے کے بھی اہلِ حاجت کی امداد فرماتے یہ بھی آپ کی عادت شریف میں تھا کہ آپ سوال کی باریک در بار یک صورتوں کو بھی خوب سمجھتے تھے اور ایسے موقع پر بھی اپنی عطا سے کام لیتے۔صاحبزادہ سراج الحق صاحب کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے آپ کے پاس خوبصورت ٹوپی بھیجی جب یہ پارسل حضرت کی خدمت میں پہنچا تو اتفاق سے ایک ہند و صاحب بھی پاس موجود تھے۔آپ نے پارسل کو کھولا تو ٹو پی نکلی۔اس ہندو نے اس ٹوپی کی بہت تعریف کی۔آپ نے جب اس کے منہ سے ٹوپی کی تعریف سنی تو جھٹ وہ ٹوپی اسی کو دے دی۔کپڑے عموماً دیتے رہتے تھے جب سے حضرت اقدس نے بعثت کا اعلان کیا اور لوگوں کو یہ بھی علم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔لوگ علی العموم آپ سے کپڑوں کا سوال کرتے تھے اور آپ کبھی کسی کو جواب نہیں دیتے تھے۔اور بعض اوقات یہ حالت ہو جاتی تھی کہ آپ کے بدن پر ہی کپڑے رہ جاتے تھے سب دے دئیے جاتے تھے۔