سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 286
برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۶ جانے کے لئے پاؤں رکھا اتنے میں ایک سائل نے آہستہ سے کہا کہ میں سوالی ہوں حضرت کو اُس وقت ایک ضروری کام بھی تھا اور کچھ اُس کی آواز دوسرے لوگوں کی آوازوں میں مل جل گئی تھی جو نماز کے بعد اٹھے اور عادتاً آپس میں کوئی نہ کوئی بات کرتے تھے۔غرض حضرت سرزدہ اندر چلے گئے اور التفات نہ کیا مگر جب نیچے گئے وہی دھیمی آواز جو کان میں پڑی تھی اب اس نے اپنا نمایاں اثر آپ کے قلب پر کیا۔جلد واپس تشریف لائے اور خلیفہ نورالدین صاحب کو آواز دی کہ ایک سائل تھا اسے دیکھو کہاں ہے، وہ سائل آپ کے جانے کے بعد چلا گیا تھا خلیفہ صاحب نے ہر چند ڈھونڈا پتہ نہ ملا۔شام کو حسب عادت نماز پڑھ کر بیٹھے وہی سائل آگیا اور سوال کیا۔حضرت نے بہت جلدی جیب سے کچھ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔اور اب ایسا معلوم ہوا کہ آپ ایسے خوش ہوئے ہیں کہ گویا کوئی بوجھ آپ کے اوپر سے اتر گیا ہے۔چند روز کے بعد ایک تقریب سے ذکر کیا کہ اس دن جو وہ سائل نہ ملا میرے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ مجھے سخت بے قرار کر رکھا تھا اور میں ڈرتا تھا کہ مجھ سے معصیت سرزد ہوئی ہے کہ میں نے سائل کی طرف دھیان نہیں کیا اور یوں جلدی اندر چلا گیا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ شام کو واپس آ گیا ور نہ خدا جانے میں کس اضطراب میں پڑا رہتا۔اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے واپس لائے۔“ مصنفہ مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۵۹) سائل کو کچھ دے دینا یا ر ڈ نہ کرنا ایک ایسی بات ہے کہ بعض دوسرے لوگوں میں بھی پائی جاسکتی ہے مگر یہ احساس کہ آپ سائل کے لئے اس قدر تلاش کریں اور اس کے نہ ملنے پر اس قدر اضطرا ہو کہ معصیت سمجھنے لگیں یہ ایسی بات ہے کہ جب تک قلب اعلیٰ درجہ کا مظہر اور مرگی نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے اس ارشاد وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ الضُّحَى )