سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 278
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۸ اپنے ہاتھ سے تیار کر کے دیتے تھے۔اس کام میں آپ کی مدد کرنے کے لئے کوئی کیمو نڈر یا خادم نہ ہوتا بلکہ آپ ادوایات کے معاملہ میں خاص طور پر احتیاط سے کام لیا کرتے تھے۔ایک یتیم کے معالجہ میں سرگرمی اس خصوص میں آپ کی سیرت کا یہ پہلو نا تمام رہ جائے گا اگر میں ایک یتیم کے واقعہ کا ذکر نہ کروں۔ایک یتیم لڑکا جس کا نام فی جا ہے وہ آج کل یہاں قادیان ہی میں ایک مخلص احمدی کی حیثیت سے رہتا اور صاحب اولاد ہے اور معماری کا کام کرتا ہے۔ابتدا میں مرزا نظام الدین صاحب کے گھر میں رہتا تھا۔بعض سختیوں کو نا قابل برداشت پا کر وہ حضرت اقدس کے گھر میں آ گیا۔کسی سر پرستی اور تربیت کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی حالت بہت خراب تھی اطوار وحشیانہ اور غیر مہذبانہ تھے۔طبیعت میں تیزی تھی ایک مرتبہ وہ اپنی شوخی کی وجہ سے جل گیا۔کھولتا ہوا پانی اس کے سارے بدن پر گر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے لئے اس سے کم صدمہ نہیں ہوا جس قدر اپنے لختِ جگر کے لئے ہوا تھا۔ایک مرتبہ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو بھی چشم زخم پہنچا تھا۔آپ ہمہ تن اُس کے علاج میں مصروف ہو گئے۔بدن پر تازہ دھنی ہوئی روٹی رکھی جاتی تھی اور بڑی احتیاط کی جاتی تھی۔اس کے علاج میں آپ نے نہ تو روپیہ کی پروا کی اور نہ خود اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں کوئی مضائقہ کیا اور نہ ہی غور و پرداخت اور غذا او دوا میں کوئی کمی جائز رکھی گئی۔خود اپنے سامنے ہر چیز کا انتظام کراتے تھے اور اس کو ہمیشہ تسلی دیتے تھے یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر اس صدمہ سے یہ بچ گیا تو نیک ہوگا۔چنانچہ آپ کا یہ ارشاد بالکل صحیح ثابت ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بلا سے نجات دی اور اب وہ ایک مخلص احمدی ہے۔اس جلنے کا نشان اس کے بدن پر اب تک باقی ہے۔سب جانتے ہیں کہ اس وقت وہ ایک میلی چیلی شکل کا بچہ تھا اور کس مپرسی کی حالت میں اس نے زندگی کے ابتدائی دن کاٹے تھے۔عرف عام کے لحاظ سے کسی بڑی قوم اور خاندان سے تعلق نہ رکھتا تھا۔ایسی مصیبت کے وقت میں جبکہ انسان اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی علالت