سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 271
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ بہت سے مخلص دوستوں کو کل ہی کی ڈاک میں حضرت اقدس علیہ السلام کے حکم سے آپ کی علالت طبع کی نسبت خط لکھے تھے اور ان سے چاہا گیا تھا کہ وہ حضرت کی صحت و عافیت کے لئے دعا کریں۔اُن کے اور عام احباب کی اطلاع کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل نے مجھے عمدہ اور من مانا موقع دیا کہ میں ان کو بشارت دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رات سے پوری عافیت حاصل ہوگئی وَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔آج صبح خدا کی طرف سے وحی ہوئی ”خوشی کا مقام - نَصْرٌ مِّنَ اللهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ“۔فرمایا۔یہ ہماری آمد ثانی ہے اور فرمایا مسیح علیہ السلام کو صلیب کا واقعہ پیش آیا اور خدا تعالیٰ نے انہیں اس سے نجات دی۔ہمیں بھی اس کی مانند صلب یعنی پیٹھ کے متعلقات کے درد سے وہی واقعہ جو پورا موت کا نمونہ تھا پیش آیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے عافیت بخشی۔اور فرمایا جس طرح تو ریت کا وہ بادشاہ جسے نبی نے کہا کہ تیری عمر کے پندرہ دن رہ گئے ہیں اور اس نے بڑی تضرع اور خشوع سے گریہ و بکا کیا اور خدا تعالیٰ نے اس نبی کی معرفت اسے بشارت دی کہ اس کی عمر پندرہ روز کی جگہ پندرہ سال تک بڑھائی گئی اور معاً اسے ایک اور خوشخبری دی گئی کہ دشمن پر اُسے فتح بھی نصیب ہوگی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دو بشارتیں دی ہیں ایک عافیت یعنی عمر کی درازی کی بشارت جس کے الفاظ ہیں ” خوشی کا مقام“ دوسری عظیم الشان نصرت اور فتح کی بشارت۔فرمایا۔دشمنوں کی یہ آخری خوشی تھی۔اور فرمایا۔پرسوں طبیعت بالکل درست ہو گئی تھی مگر برف پینے کے سبب سے دوبارہ درد کی شدت زور پکڑ گئی اور فرمایا میں نے اس میں غور کی کہ کیوں قضا و قدر نے مجھے اتنی برف پلا دی کہ جس سے خوفناک حد تک مرض کی نوبت پہنچ گئی مجھے اس میں کئی اسرار معلوم ہوئے۔اوّل یہ کہ بعض دوستوں کے لئے مجھے ہنوز پُر درد اور مخلصانہ دعا کرنی تھی اور اس کا موقع وہی حزن اور کرب کی گھڑیاں تھیں۔جو جاتی رہی تھیں۔دوم بعض دوستوں کو ہمارے حق میں پُرسوز